Home » sexual knowledge » ازدواجی زندگی میں ولولہ پیدا کریں

ازدواجی زندگی میں ولولہ پیدا کریں

 دنیامیں ہرجگہ اور خاص طور پربڑے بڑے شہروں میں جدید زندگی بے حد پیچیدہ ہوگئی ہے۔اس کا بوجھ ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔لوگ اس بوجھ تلے دب کر جنسی بے نیازی کا شکار ہورہے ہیں یوں مسرت وشادمانی کے زبردست قدرتی وسیلے سے وہ دور ہوتے چلے جارہے ہیں ۔

یہ محض عمومی رائے نہیں ہے جو سنی سنائی باتوں پر مبنی ہو ۔ اس کے بجائے یہ دعوی ٹھوس حقائق پر مبنی ہے ۔ چنانچہ اس کی تصدیق جنسی معلمین ، مشیروں اور معالجوں کی امریکی ایسوسی ایشن کی سابق صدر شرلے زثمان نے بھی کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے ’’ جنسی خواہش کا فقدان وہ سب سے عام مسئلہ ہے جو لوگ ڈاکٹروں کے پاس لے کر آتے ہیں۔
دو امریکی ماہرین نے بائیس ممتاز جنسی ڈاکٹروں سے طویل مکالموں کے بعد اس معاملے کی گہری چھان بین کی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کئی نئے طریقے تجویز کیے ہیں ۔

سیکس کی بجائے قربت کے بارے میں سوچئے
اس مثال پر غور کیجئے کہ آپ کے کمرے میں ٹی وی رکھا ہے ۔آپ داخل ہوتے ہیں ،اس کا بٹن دباتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی سکرین پر تصویر نمودار ہوجاتی ہے ۔
یہ ہمارا روزمرہ کا تجربہ ہے لیکن کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ جب ٹی وی بند ہوتا ہے تو بھی تھوڑا سا کرنٹ اس میں رہتا ہے ۔یہی کرنٹ سوئچ آن کرنے پر اس کو فورا تصویر پیش کرنے کے قابل بناتا ہے ۔
اس مثال میں نکتہ یہ ہے تھوڑی بہت توانائی خرچ کیے بغیر خواہش مسلسل قائم رہنے کی توقع نہیں کرنی چاہئے ۔
یہ بات غیر رومانوی محسوس ہوتی ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ جب دو ساتھی ایک دوسرے کے عادی ہوجاتے ہیں تو جنسی خواہش فطری طور پرکم ہوجاتی ہے ۔

اس کمی کا علاج قربت ہے ۔ قربت سے یہاں مراد ایک دوسرے کے ساتھ مکمل موافقت ہے ۔ صرف قربت ہی دو افراد کو اس قدر اعتماد مہیا کرتی ہے کہ وہ تمام رازونیا زمیں  ایک دوسرے کو شریک کر سکیں ۔
جنسی معالجین کے پاس جانے والے اکثر لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھی کے بارے میں سب کچھ جان چکے ہیں اور دریافت کرنے والی کوئی شے باقی نہیں رہی لہذا وہ بوریت کا شکار ہوگئے ہیں ۔ لیکن ان لوگوں سے زیادہ تفصیلات حاصل کرنے پر معالج کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت ہی پھیکی اور غیر تخلیقی ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں ۔ یہاں تک کے اپنے جیون ساتھی کے ساتھ برسوں سے کوئی بامعنی بات چیت بھی نہیں کی۔
ایسے ہی ایک معالج نے علاج کی غرض سے آنے والی عورت کا قصہ ہمیں سنایا ہے ۔ اس عورت کی شادی کو دس سال بیت بیت گئے تھے ۔ وہ خاوند سے لاتعلقی محسوس کرنے لگی تھی اور دفتر میں اپنے ساتھ کام کرنے والے ایک مرد میں اس کی دلچسپی بڑھتی جارہی تھی۔ اس کو لگتا تھا کہ وہ اس غیر مرد سے مکمل جذباتی ہم آہنگی رکھتی ہے ۔ دونوں کے مزاج یکساں ہیں اور دلچسپیاں بھی ۔ یہاں تک کے ان کی پسندیدہ فلمیں بھی مشترکہ تھیں ۔
معالج نے یہ بات سن کر اس عورت سے پوچھا کہ اس کے شوہر کو کون سی فلمیں اچھی لگتی ہیں ۔ پتہ ہے دس سال سے شوہر کے ساتھ ایک چھت کے نیچے رہنے والی اس عورت نے کیا جواب دیا ؟ اس نے جواب دیا کہ شوہر کی پسندیدہ فلموں کی اسے کوئی خبرنہیں!
انسان تو ہروقت بدلتا رہتا ہے ۔ اس کے تصورات ،ذہنی کیفیات اور پسند وناپسند میں مسلسل تبدیلی آتی رہتی ہے ۔ اس لیے اگر آپ نے کل ہی اپنے جیون ساتھی کے ساتھ بہت سا وقت گزارہ ہے تو بھی اس کے متعلق آپ کا علم پرانا ہوچکا ہے ۔
کونسٹائن کلارک کاتعلق ماسٹرز اینڈ جانسن انسٹی ٹیوٹ سے رہا ہے ۔ برسوں تک وہ جنسی خواہش کی کمی کی شکار ملازمت پیشہ عورتوں کا علاج کرتی رہی ہیں ۔
کلارک صاحبہ کہتی ہیں کہ ملازمت پیشہ عورت سوچتی ہے ’’ آج کا دن میں نے بہت مصروف گزارہ ہے ۔ کام تھے کہ ختم ہی نہیں ہورہے تھے ۔ اب گھر واپس آئی ہوں تو مجھے آرام کرنا چاہئے ۔ شوہر کو چونچلوں کا موقع دینے کی میرے پاس بالکل کوئی گنجائش نہیں کیونکہ پھر وہ ان سے آگے بھی بڑھنا چاہے گا‘‘۔
اس احساس کے ساتھ وہ شوہر کی ہر پیش قدمی کو جھٹک دیتی ہے ۔ کلارک صاحبہ اس طرز عمل کو ناپسند کرتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ اس انداز کی بجائے اگر عورت اپنے احساسات کا صحیح اظہار کردے تو شوہر خود ہی لحاظ کرنے لگے گا۔
سیکس کے معاملے میں بڑی مشکل یہ ہے کہ میاں بیوی اس کو بہت کم اہمیت دیتے ہیں۔ اس مشکل کا ایک حل بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ میاں بیوی سیکس کو ایسی شے سمجھنا شروع کردیں جس کو ان کے باقاعدہ شیڈول میں جگہ ملنی چاہئے ۔
اس نکتے پر اعتراض کرنے والے بہت ہیں ۔ وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ جنس کو شیڈول کا حصہ بنانے کا مطلب اس کی بے ساختگی کو بربادکرنا ہے ۔ اس طرح تو جنسی عمل سراسر میکانکی ہوجائے گا۔ اس کا سارا لطف ختم ہوجائے گا اور وہ زندگی کی بے شمار مشقتوں میں سے ایک اور مشقت بن کر رہ جائے گا۔ وہ چیخ چیخ کر ہماری توجہ اس معاملے کی طرف دلائیں گے کہ اگر میاں بیوی پہلے سے جنس کے لیے وقت طے کر لیں لیکن مقررہ وقت پر دونوں میں سے کوئی بھی سیکس پر آمادہ نہ ہو تو پھر کیا ہوگا؟
بہت خوب! اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایساہی ہے تو ضروری نہیں کہ آپ وہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ بھی نہ گزاریں ۔میاں بیوی وہی وقت گپ شپ میں گزار سکتے ہیں ،مل کر کھیل سکتے ہیں ، ٹیلی ویژن دیکھ سکتے ہیں ، شاپنگ کے لیے بازار جاسکتے ہیں اور بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں ۔ یاد رکھنے والی اہم بات یہ ہے کہ صحت مند ازدواجی زندگی کے لیے ہرروز سیکس نہ سہی ، لیکن جذباتی قربت بہرحال ضروری ہوتی ہے ۔باتیں کریں
کیلی فورنیا یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن نے انسانی سیکس کی تحقیق کا ایک پروگرام شرو ع کررکھا ہے ۔ڈاکٹر ایوالن ایس جنڈل اس پروگرام کی ڈائریکٹر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے ’’ لوگ اپنے جذباتی احساسات کو زبان پرلائے بغیر کئی کئی سال ایک دوسرے کے ساتھ گزار دیتے ہیں ۔‘‘
ڈاکٹر جنڈل اپنے مریضوں سے کہتی ہیں کہ وہ خوش گوار یادیں ذہن میں لائیں ۔ ’’ میں ان سے کہتی ہوں کہ وہ اپنے شریک حیات کے ساتھ گزارے ہوئے پرلطف لمحوں کو یاد کریں ۔ یہ بتائیں کہ ان کے درمیان خوش گوار معاملات کون کون سے ہیں اور وہ دونوں مل کر کیا کچھ کرنا پسند کرتے ہیں‘‘ ۔
ڈاکٹر جنڈل یہ سب کچھ اس لیے کرتی ہیں کہ ان کے نزدیک ذہنی تحرک اور قربت سیکس جتنی اہم انسانی ضروریات ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر آپ اپنے ساتھی کی خواہش کا منبع ڈھونڈیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ محض جسمانی کشش سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ مکمل شخصیت کے ردعمل کے طورپر جنم لیتی ہے ۔

خود کو سرپرائز دیں
آپ نے اس شخص کا قصہ سنا ہوگا جس نے شادی کے پانچ سال بعد اچانک دریافت کیا کہ جب وہ بیڈ پر دائیں پہلو لیٹا ہو تو سیکس اس کے لیے زیادہ پرلطف ہوجاتا ہے ۔ وجہ ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس پوزیشن میں وہ جنسی لمحات کے دوران اپنے پسندیدہ ٹی وی پروگرام دیکھ سکتا تھا!
ایسے لطیفے کیوں بنتے ہیں ؟ ہاں یہ واقعی مضحکہ خیز بات ہے کہ زندگی میں لطف کے چند بہترین لمحوں میں غیر متعلقہ چیزوں کا سہار ا لیا جائے ۔
آئیے دیکھیں کہ تجربہ کار ڈاکٹر جنڈل کیا کہتی ہیں۔
جب میں لوگوں سے پوچھتی ہوں کہ اپنی جنسی زندگی کے بہترین ایام میں وہ کیا کچھ کرتے تھے تو وہ جواب کھسیانی ہنسی میں دیتے ہیں۔ وہ ویک اینڈ پرتفریح کے لیے جانے یا پھر لمبی ڈرائیونگ کا ذکر کرتے ہیں ۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ آخری بار انہوں نے ایسا کب کیاتھا توان کو کچھ یادنہیں ہوتا ۔
ڈاکٹر صاحبہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ لوگ اپنے جنسی تجربوں کو غیر جنسی اصطلاحوں میں بیان کرنا پسند کرتے ہیں ۔وہ جنسی تکنیک کی بجائے ماحول کو جوش وولولے کا سبب ٹھہراتے ہیں ۔
اپنے تعلق کے بہترین لمحات کا موازنہ موجودہ صورتحال سے کریں ۔ شاید آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ کل اور آج میں جو فرق ہے وہ ان معاملات کے سبب ہے جو پہلے آپ کیا کرتے تھے ۔ مثلا باتیں ، سیروتفریح اور پرسکون ڈنر وغیرہ ۔
پرانا ولولہ آپ پھر سے تازہ کرنا چاہیں تو دوبارہ وہی کچھ کریں جس کو آپ بھول چکے ہیں ۔

حقیقت پسند بنیں
کچھ عرصہ پہلے امریکا میں سو ایسے جوڑوں کا مطالعہ کیا گیا جو اپنی شادیوں سے مطمئن تھے ۔یہ مطالعہ پٹس برگ یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن میں نفسیات اور نفسیاتی طب کی استاد ایلن فرینک نے کیا تھا۔
فرینک صاحبہ نے دیکھا کہ ان جوڑوں میں سے پینتیس فیصد عورتوں اور گیارہ فیصد مردوں نے جنسی فقدان کی شکایت کی ۔ اس کے باوجود وہ ازدواجی زندگی سے مطمئن تھے۔ ایلن فرینک صاحبہ کو اس پر حیرت ہوئی ۔ مگر ان کو اعتراف کرنا پڑا کہ خوش گوار ازدواجی زندگی گزارنے والے جوڑوں میں بھی جنسی خواہش عموما زوال کی نذر ہوجایا کرتی ہے ۔
خیر ،یہ حقیقت سہی ،مگر خوش گوارنہیں ۔ البتہ کبھی کبھار جنسی خواہش کی کمی کا شکارہونے والوں کو یہ جان کر تسکین ہو سکتی ہے کہ ان کی کیفیت انوکھی نہیں ۔ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا کرتا ہے ۔ ہمارے لیے اس ساری بحث میں سبق یہ ہے کہ خوش گوار ازدواجی زندگی میں بھی جنسی خواہش ہمیشہ ویسی نہیں رہتی جیسی کہ ابتدا میں ہوا کرتی ہے ۔
بدقسمتی سے جنسیات پر قلم اٹھانے والے اکثر دانش ور اور معالج یہ دعوی کرتے رہتے ہیں کہ اچھی ازدواجی زندگی میں جنسی خواہش اور تسکین وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھتی جاتی ہے ۔ یہ محض افسانہ ہے جب کبھی آپ ایسی باتیں سنیں یا پڑھیں تو اس کو ہرگز قبول نہ کریں۔ہلکے سے مسکرا کر آگے بڑھ جائیں ۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر تھامس ڈی سٹیووارٹ کا مشورہ بھی یہی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کل عام لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ہماری جنسی خواہش ہر وقت تروتازہ رہنی چاہئے مگر یہ بہت ہی بے ہودہ وہم ہے ۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔

نیا زاویہ نظر اپنائیں
ماہر نفسیات پیٹر کل مان نے اپنے مریضوں کو جنسی ساتھیوں کے احساسات سمجھنے میں مدد دینے کے لیے ایک طریقہ وضع کیا ہے ۔ آپ اس کو ’’ کردار ادا کرے کا طریقہ ‘‘ کہہ سکتے ہیں ۔
کل مان صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ فرض کریں ایک مرد نے اپنی بیوی کو اس کو زور سے گلے لگا کر ناراض کر لیا جب وہ کسی کام میں مصروف تھی ۔وہ منع کرتی رہی لیکن مرد اپنا کام کرتا رہا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ یہ مہذب طریقہ کار نہیں ۔پھر کیا کیاجائے ؟
کل مان صاحب اس کو سمجھاتے ہیں کہ فرض کریں وہ رات کو گھر میں بیٹھ کر ضروری دفتری رپورٹ تیار کررہا ہے جو صبح اس نے باس کو پیش کرنی ہے مگر بیوی اس کو مسلسل جنسی ترغیب دئیے جارہی ہے۔اس صورت حال میں اس کا ردعمل کیا ہوگا؟
ظاہر ہے اس پر جھنجھلاہٹ طاری ہوگی ۔
خیر ایک اور وجہ سے بھی اپنے زاویہ نظر کوبدلتے رہنا چاہئے ۔ بات یہ ہے کہ ہر جوڑے میں جنسی خواہش یکساں نہیں ہوتی ۔ دونوں میں سے ایک جنس کا زیادہ آرزو مند ہو سکتا ہے ۔ اس صورت حال میں کم جنسی خواہش رکھنے والے ساتھی کو کچھ عرصہ کے لیے خود جنسی پیش رفت کرنی چاہئے ۔یوں دونوں کو ایک دوسرے کا نقطہ نظر بہتر طورپر سمجھنے میں مدد ملے گی ۔
آخری بات اس سلسلے کی یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ میاں بیوی میں سے کوئی ایک ہی ہمیشہ پہلا قدم اٹھائے ۔ اس معاملے میں وقتا فوقتا ردوبدل ہوتے رہنا چاہئے ۔ اس طرح وہ نئے امکانات سے آشنا ہو سکیں گے اوراپنے ساتھی کے احساسات اور ضروریات کو بھی بہتر طور پر جان سکیں گے ۔