Home » بواسیر

بواسیر

270px-800px-Hemorrhoidبواسیر
(Hemorrhoid )بواسیر ایک خطرناک بیماری ہے. بواسیر 2 قسم کی ہوتی ہے. عام زبان میں اس کو خونی اور بادی بواسیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کہیں پر اسے مہیشی کے نام سے جانا جاتا ہ۔
1۔ خونی بواسیر: ۔ خونی بواسیر میں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی ہے صرف خون آتا ہے. پہلے پخانے نے میں لگ کر ، پھر ٹپک کے، پھر پچکاری کی طرح صرف خون آنے لگتا ہے. اس کے اندر مسّہ ہوتا ہے. جو کہ اندر کی طرف ہوتا ہے پھر بعد میں باہر آنے لگتا ہے. لیٹرین سے فارغ ہونے کے بعد خود بخود اندر چلا جاتا ہے. پرانا ہونے پر باہر آنے پر ہاتھ سے دبانے پر ہی اندر جاتا ہے. آخری اسٹیج میں ہاتھ سے دبانے پر بھی اندر نہی جاتا ہے۔
2۔بادی بواسیر: ۔ بادی بواسیر رہنے پر پیٹ خراب رہتا ہے۔قبض بنا رہتا ہے۔گیس بنتی ہے۔ بواسیر کی وجہ سے پیٹ برابر خراب رہتا ہے۔ نہ کہ پیٹ گڑبڑ کی وجہ سے بواسیر ہوتی ہے۔ اس میں جلن، درد، کھجلی، جسم میں بے چینی، کام میں دل نہ لگنا وغیرہ.لیٹرین سخت ہونے پر اس میں خون بھی آ سکتا ہے۔ اس میں مسّہ اندر ہوتا ہے۔ مسّہ اندر ہونے کی وجہ سے پخانے کا راستہ چھوٹا پڑتا ہے اور چنن پھٹ جاتی ہے اور وہاں زخم ہو جاتا ہے اسے ڈاکٹر اپنی زبان میں فشر بھی کہتے ہیں۔ جس سے بہت جلن اور درد ہوتا ہے۔ بواسیر بہت پرانا ہونے پر بھگندر ہو جاتا ہے. جسے انگریزی میں پھسٹلا کہتے ہیں. پھسٹلا قسم کا ہوتا ہے. بھگندر میں پخانے کے راستے کے علاوہ ایک سوراخ ہو جاتا ہے جو پخانے کی نلی میں چلا جاتا ہے. اور پھوڑے کی شکل میں پھٹتا، بہتا اور سوکھتا رہتا ہے۔کچھ دن بعد اسی راستے سے پخانہ بھی آنے لگتا ہے. بواسیر، بھگندر کی آخری اسٹیج ہونے پر یہ کینسر کی شکل لے لیتا ہے۔ جس کو رکٹم کینسر کہتے ہیں۔ جو کہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
وجوہات:
بواسیر ہونے کی اہم وجہ ہے لمبے وقت تک سخت قبض بنا رہنا. صبح شام رفع حاجت نہ جانے یا رفع حاجت جانے پر ٹھیک سے پیٹ صاف نہ ہونے اور کافی دیر تک بیت الخلا میں بیٹھنے کے بعد فضلہ نکلنے یا زور لگانے پرفضلہ نکلنے یا جلاب لینے پر فضلہ کی پوزیشن کو قبض ہونا کہتے ہیں۔
مقعد کے منہ پر چھوٹے چھوٹے (مسّے) ہوتے ہیں، ان میں سے ایک، دو یا کئی مسّے پھو ل کر بڑے ہو جائیں تو اس حالت کو آیورویدکی زبان میں’ارش’ کہتے ہیں۔یہ مسّے پہلے سخت ہونا شروع ہوتے ہیں، جس سے مقعد میں کھجلی اور چبھن سی ہونے لگتی ہے. ایسی صورت ہوتے ہی مریض کو محتاط ہو جانا چاہئے۔
اس صورت حال میں توجہ نہ دی جائے تو مسّے پھول جاتے ہیں اور ایک ایک مسّے کا سائز مٹر کے دانے یا چنے برابر ہو جاتا ہے. ایسی صورت میں لیٹرین کرتے وقت تو بھاری عذاب ہوتی ہے لہٰذاارش کا مریض سیدھا بیٹھ نہیں پاتا۔مریض کو نہ بیٹھے چین ملتا ہے اور نہ لیٹے ہوئے. یہ بادی بواسیر ہوتی ہے، بواسیر کے مرض میں اگر خون بھی گرے تو اسے خونی بواسیرکہتے ہیں. یہ بہت خوفناک بیماری ہے، کیونکہ اس میں درد تو ہوتی ہی ہے ساتھ میں جسم کا خون بھی بیکار تباہ ہوتا ہے.کچھ افراد میں یہ بیماری نسل در نسل پایا جاتا ہے. لہذا نسلی بیماری بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے ،جن افراد کو اپنے روزگار کی وجہ سے گھنٹوں کھڑے رہنا پڑتا ہو، جیسے بس کنڈکٹر، ٹرافک پولیس، پوسٹ مین یا جنہیں بھاری وزن اٹھانے پڑتے ہوں، جیسے قلی، مزدور، لِفٹر وغیرہ، ان میں اس بیماری سے شکار ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ۔قبض بھی بواسیر کو جنم دیتی ہے، قبض کی وجہ سے فضلہ خشک اور سخت ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کا راستہ آسانی سے نہیں ہو پاتا ،لیٹرین کے وقت مریض کو کافی وقت تک پخانہ میں اُکڑو بیٹھے رہنا پڑتا ہے، جس سے خون کی نالیوں پر زور پڑتا ہے اور وہ پھو ل کر لٹک جاتی ہیں۔ بواسیر مقعد کے کینسر کی وجہ سے یا پیشاب کے راستے میں رکاوٹ کی وجہ سے یا حمل میں بھی ہو سکتا ہے۔
خصوصیات علاج
بواسیرکا علاج خصوصی نسخوں اور مناسب طریقو ں کی بنیاد پر کیا جاتاہے اس سے منسلک ضمنی اثرا ت کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس کا قاعدہ حل اور بیماری کو جڑ سے ختم ہونے تک کا مکمل علاج کیا جاتا ہے۔
ہاشمی دواخانہ نے ہزاروں مریضوں اوربزرگ مریضوں تک کو اس بیماری سے نجات دلانے میں اپنے مفید مشوروں اور تیر بہدف نسخوں وادویات سے بھر پور تعاون دیا ہے۔ ایک بڑی حد تک اس بیماری میں مریض سرجری یا مختلف طریقوں سے علاج کر واتے ہیں جو اس بیماری کا پائیدار حل نہیں ہو تا ہے۔ اسی چیز کو مدِّنظررکھتے ہوئے ہاشمی دواخانہ کے طبی ماہرین کی ٹیم نیں جو تحقیق اس بواسیر کی اقسام اور علاج پر کی ہے وہ بے مثال ہے۔
ِاحتیاطی تدابیر
بواسیر کے مریض اپنی غذا کو اپنے مرض کے لحاظ سے پابند کر یں۔ اور جلد صحت یابی کے لئے اپنے کھانے میں اور روزہ مرہ کے معاملات میں چند تبدیلیاں ضرور کریں ۔ مخصوص علاج اور پرہیز بلاشبہ مریضوں کے در د کو کم کرنے میں مدد کر سکتاہے۔ بادی اور ثقیل غذا سے بچنا چاہیے اور ہلکی اور ہاضم غذا کا استعمال رکنا چاہیے۔

Leave a Reply