Home » تناۆ اور موٹاپا

تناۆ اور موٹاپا

تناۆ اور موٹاپا

تناۆ اور موٹاپا

تناۆ اور موٹاپا

شايد آپ نے بھي سنا ہو گا  کہ بعض لوگ کہتے ہيں کہ اگرچہ وہ زيادہ کھانا نہيں کھاتے ہيں پھر بھي دن بہ دن موٹے ہوتے جا رہے ہيں- اگر ان لوگوں کي نفسياتي حالات پر توجہ کي جائے تو ہميں معلوم ہوتا ہے کہ يہ لوگ دوسروں سے زيادہ پريشان اور بےچين رہتے ہيں- اس ميں کوئي شک نہيں کہ کچھ عوامل جيسے وراثتي، ہارمون اور بعض دوائياں کا استعمال  موٹاپے کا باعث بن جاتے ہيں مگر يہ بھي جاننا چاہيے کہ ان کے علاوہ  تناۆ اور پريشان رہنا  بھي موٹا بننے کا ايک اہم سبب ہے-

ہارمون پر تناۆکا اثر

کيوں پريشاني  اور تناۆ موٹاپے کا باعث بن سکتے ہيں؟ کيونکہ ہمارا جسم دشوار حالتوں ميں صحيح فيزيولوژيکي ردعمل دکھاتا ہے- انسان کي پيدايش ايسي ہے کہ خطرہ کے وقت ،جيسے جب کوئي وحشي جانور کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو مقابلہ کرنے کےبجائے بھاگنے لگتا ہے- بےشک اس بھاگنے کےليے انرژي کي ضرورت ہے- دراصل، تناۆ، جسم کو ايسي حالت ميں ڈالتا ہے جس ميں انرژي اور چربي کے ذخائر کم ہو جائے اور  اس کمي کا معاوضہ کھانا کھانے سے ہو جائے- تناۆ کي حالات کے وقت جو بدن ميں ہوجاتا ہے ايسے ہيں: ہيپوتالاموس سے ہارمون خارج ہوتے ہيں اور کورتيزول بڑھنے کا باعث بن جاتا ہے- يہي کورتيزول بھوک کے احساس کو شديد کرتا ہے-

تناۆ سايز بڑھانے کا باعث بن جاتاہے

جب استرس آغاز ہو جاتا ہے تو اسي وقت سے بدن ميں کورتيزول خارج ہونے کے ساتھ ہي چربي  محفوظ رکھنے کے عمل کا آغاز ہو جاتا ہے-يہ بھي جاننا چاہيے کہ تناو،  خاص حصّے کے موٹاپے  کا باعث بن سکتا ہے- يعني يہ چربي  جسم کے کچھ حصے جيسے پيٹ پر جمع ہوتے رہتے ہيں- اس پر خاص توجہ کرني چاہيے کہ صحت کو خطرے ميں ڈال سکتا ہے اور ذيابيطس 2 (Diabetes mellitus type 2)، دل کي بيمارياں جيسي بيماريوں کا باعث بن جاتا ہے-

تناۆ کے خلاف رژيم

ماہرين کا کہنا ہے کہ جب چينتا اور تناۆ کي حالت ميں ہيں تو مٹھائي کھانے سے پرہيز کرنا چاہيے- اس کے بجائے بہتر يہ ہے کہ شوگر والے کھانے (جو بہت دير تک بدن کے اندر جذب ہوتے ہيں) جيسے چاول، چوکر والي روٹي، پستہ وغيرہ  کا استعمال کريں-ويتامن B(جيسے گوشت، مچھلي اور انڈے)، ويتامن c (جيسے آلو، پالک اور گھنٹي مرچ) کلسيم(جيسے دودھ، لسي) منيزيم (سمندر والے کھانے) چربي اسيد(جيسے  سرسوں کا ٹيل)  کا استعمال تناۆ سے مقابلہ کرنے کے ليے اچھے ہيں-

اپنے آپ کو چين ديں :

ہم سب کو زندگي ميں کسي نہ کسي طرح  چينتا اور تناۆ کا مقابلہ کرنا چاہيۓ- سب سے اہم بات يہ ہے کہ کيسے اس بےچيني اور تناۆ کو قابو کرکے سنبھال ليں- جب آپ کے اندر چين ہو تو وزن بڑھنے کو بہترقابو  کيا جا سکتا ہے- يوگا کريں، گہري سانسيں ليں، دعا مانگيں اور اگر ان سے آپ کا مسئلہ ختم نہيں ہوا تو نفسيات کے ڈاکٹر سے مليں-اگر اپنے چينتا اور تناۆ کو سنبھال کرکے رکھيں تو کورتيزول کا ہارمن معمول سے کم خارج ہوجاتاہے اور بھوک کا احساس کم لگتاہے- اس بات کو مدنظر رکھيں کہ کافي گھنٹے سونا بھي جسم کي تناسب کے ليے فائدہ مند ہے کيونکہ آپ کو آرامش ديتاہے اور جسم کي کالري کو مٹاتا ہے-

Leave a Reply