Home » Tibbe Unani » شادی شدہ زندگی کب خوشگوار ہوتی ہے؟ تحقیق نے بتادیا

شادی شدہ زندگی کب خوشگوار ہوتی ہے؟ تحقیق نے بتادیا

شادی شدہ زندگی کب خوشگوار ہوتی ہے؟ تحقیق نے بتادیا

realitytv_dwts_all_stars_pairs_9

بوسٹن (نیوز ڈیسک) مرد و زن کو زندگی گزارنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور مذہب نے اس کا خوبصورت حل شادی کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اگرچہ جدید مغربی معاشرے میں شادی کا ادارہ تباہ ہوچکا ہے اور بعض ممالک میں تو 70 فیصد تک جوڑے بغیر شادی کے ہی ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں لیکن مغربی سماجی اور نفسیاتی ماہرین کی تحقیق ہی یہ ثابت کرتی ہے کہ شادی فطری ضروریات کی تسکین کا قدرتی اور اخلاقی طریقہ ہے اور جوں جوں عمر گزرتی ہے اس کے فوائد اور نعمتوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان جارج ویلئنٹ نے تقریباً 75 سال تک شادی شدہ زندگی پر تحقیق کی اور اُن کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 70 سال کی عمر کو پہنچنے پر جوڑوں میں محبت اور تعاون عروج پر پہنچ جاتا ہے اور خصوصاً مرد اپنی شریک حیات کو بہتر طور پر سمجھنا شروع کردیتے ہیں اور اُن کی اہمیت کے مداح ہوجاتے ہیں۔ جارج کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس عمر میں مردوں کو اپنے مرد دوستوں سے محرومی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ محبت اور دوستی کیلئے اپنی شریک حیات کے مزید قریب ہوجاتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ مردوں میں نرمی اور لطافت بھی بڑھتی ہے جبکہ خواتین زندگی کے سخت رویوں اور مسائل کے بارے میں قدرے مردانہ رویے کا مظاہرہ کرتی ہیں جس کی وجہ سے دونوں کے رویے میں مماثلت بڑھ جاتی ہے جو بڑھاپے میں محبت اور قربت میں اضافہ کرتی ہے۔ اس عمر میں بچوں کی دوری بھی میاں بیوی کو قریب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ اب انہیں زیادہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزارنا پڑتا ہے اور ایک دوسرے کا سہارا بننا پڑتا ہے۔ اس تحقیق کا آغاز 1938ءمیں ہوا تھا اور یہ انسانی رویے کا طویل ترین مطالعہ ہے۔