Home » شياٹيکا کے بارے ميں جانکاري

شياٹيکا کے بارے ميں جانکاري

شياٹيکا کے بارے ميں جانکاري

شیاٹیکا کے بارے میں جانکاری

شياٹيکا  کي بيماري (جصّہ اوّل)

شياٹيکا کے بارے ميں آگاہي(حصّہ دوّم)

شياٹيکا کا درد اور آگاہي(حصّہ سوّم)

3- Disc Herniation

مہروں کے درميان پائي جانے والي ڈسک کسي بيماري  يا  دباۆ کي وجہ سے کمزور پڑ جاتي ہے جس کے نتيجے ميں اس کا مائع نما مادہ باہر کي طرف دباۆ ڈالتا ہے اور اس دباۆ کے نتيجے ميں اس عصب کے ابتدائي حصوّں کو دباۆ برداشت کرنا پڑتا ہے – اس دباۆ کے نتيجے ميں مريض کو درد کا احساس ہوتا ہے –

4-  آرتھرائٹس

بعض  بيمارياں ايسي ہوتي ہيں جن کي وجہ سے مہروں کي ساخت ميں تبديلي آنا شروع ہو جاتي ہے اور  مہروں پر  بننے والے ابھار مانند اوسٹيوفائٹس کي بدولت اس عصب پر دباۆ پڑتا ہے –

5- Spondylolisthesis

بعض اوقات مہروں کو اپني جگہ پر برقرار رکھنے والي ارد گرد کي ليگامنٹ  يا ارد گرد موجود پٹھے کمزور ہو جاتے ہيں اور مہروں پر ان کي گرفت کمزور پڑ جاتي ہے جس کے باعث مہرے اپني جگہ سے آگے يا پيچھے کي طرف  پھسل جاتے ہيں – اس عمل کے نتيجے ميں بھي عصب پر دباۆ پڑتا ہے  اور اس دباۆ کے نتيجے ميں پھر سے شياٹيکا کي علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتي ہيں –

6-  کولہے کي ہڈي کے جوڑ کے ارد گرد مسائل

بعض اوقات ايسا بھي ہوتا ہے کہ  ٹانگ کي نچلي طرف  جانے والا درد خود شياٹيک عصب کا نہيں ہوتا ہے بلکہ کولہے کي ہڈي کے جوڑ يا کمر کي نچلي سطح کے دوسرے جوڑوں  کي وجہ سے ہوتا ہے اور ايسے مسائل کا درد يہاں پر واضح ہو رہا ہوتا ہے  جس کے باعث شياٹيکا کي طرح کي علامات ظاہر ہوتي ہيں مگر حقيقت ميں يہ درد شياٹيکا کا نہيں ہوتا ہے –

شياٹيکا کي تشخيص :

اس کي تشخيص کے ليۓ معالج مرحلہ وار مريض کے بارے ميں معلومات  حاصل کرتا ہے – مختلف طرح کے ٹسٹ انجام ديۓ جاتے ہيں اور پٹھوں اور ہڈيوں کو ايک ايک کرکے الگ کيا جاتا ہے اور يہ پتہ لگايا جاتا ہے متعلقہ درد  کي اصل وجہ کيا ہے –

شياٹيکا کا علاج :

اس بيماري کا بہترين معالج فيزيوتھراپسٹ ہوتا ہے اور فيزيوتھراپسٹ معائنہ کرنے کے بعد فيصلہ کرتا ہے کہ اس بيماري کو سادہ فيزيوتھراپي طريقہ علاج سے ٹھيک کيا جا سکتا ہے يا اس کے ليۓ سرجري کي ضرورت ہے – اگر سرجري کي ضرورت ہو تو متعلقہ مريض کو سرجري کے ليۓ  نيوروسرجن کے پاس بھيجا جاتا ہے – سرجري کے بعد بھي ضروري ہے کہ مريض فوري طور پر فيزيوتھراپسٹ سے رجوع کرے تاکہ بعد ميں پيدا ہونے والي پيچيدگيوں سے بچا جاۓ –

شديد درد کي صورت ميں دوائي کا استعمال کريں مگر زيادہ عرصے کے ليۓ دوائي بھي مضر صحت ہوتي ہے  اس ليۓ مرض کي اصل وجہ کا پتہ لگاتے ہوۓ اپني روز مرّہ کي زندگي ميں تبديلي لائيں اور بہتر انداز ميں اس بيماري کا علاج کريں۔ (ختم شد)

Leave a Reply