Home » صحت اور بيماري

صحت اور بيماري

صحت اور بيماري

صحت اور بیماری

خالق کائنات نے حضرت انسان کي تخليق کرکے اپني اس مخلوق کو جن نعمتوں سے نوازا ہے ان کي گنتي اگرچہ ناممکن ہے تاہم انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے خالق کي عطا کي ہوئي تمام نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے- رب کائنات کي طرف سے عطاکي ہوئي نعمتوں ميں سے ”صحت” ايک انسان کيلئے بنيادي اہميت کي حامل ہے اورانسان تندرستي کي حالت ميں ہي اپني زندگي خوشحالي کے ساتھ گذار سکتا ہے- خالق و مخلوق کے رشتے کا تقاضا ہے کہ انسان ہمہ وقت اچھي صحت کا طلبگار رہے اور اوراس عظيم نعمت کيلئے ہر وقت اپنے خالق کا شکر بجا لاتا رہے- اگرچہ رب کائنات کے سامنے سر بسجود ہوکر شکر بجا لانا احسان مندي کے مظاہرے کي اولين شرط ہے تاہم ہم صحت جيسي عظيم نعمت کا خيال رکھ کر بھي حق ادائيگي کرسکتے ہيں-

جس طرح دھوپ چھاۆں کا آپس ميں قريبي رشتہ ہے اور دونوں ايک دوسرے کيلئے لازم و ملزوم ہيں اسي طرح جہاں تندرستي ہو وہيں مرض بھي لاحق ہو سکتا ہے- يعني ايک تندرست انسان ہي کسي بيماري ميں مبتلا ہو سکتا ہے- جب بھي کوئي انسان بيمار ہوجاتا ہے تو وہ فوراً تندرستي کي قدر و قيمت جان ليتا ہے اور صحت ياب ہونے کيلئے اپنے خالق کي طرف رجوع کرتا ہے- اس کے علاوہ انسان اپني کھوئي ہوئي صحت پانے کيلئے ايک طبيب کي طرف بھي رجوع کرتا ہے- بيماري کي تاريخ اتني ہي قديم ہے جتني کہ روئے زمين پر انسان کي تاريخ ہے- ہر دور اور ہر زمانے ميں انسان کسي نہ کسي طرح کي بيماري ميں مبتلا ہو تا رہا ہے- بيماري جہاں انسان کيلئے رب ذوالجلال کي طرف سے ايک آزمائش ہوتي ہے وہيں رب الکريم نے انسان کي صحتيابي کيلئے دنيا کے اندر ہي وسائل پيدا کئے ہيں- ان وسائل کاا ستعمال کچھ تعليم وتربيت يافتہ لوگ کرتے ہيں اور خداوند کريم کے اذن سے بيمار کي شفايابي کا سبب بنتے ہيں- ان ہي تعليم و تربيت يافتہ لوگوں کو ہم طبيب يا عصر حاضر کي اصطلاح ميں ڈاکٹر کے ناموں سے جانتے ہيں-ايک مخصوص قسم کي تربيت حاصل کرکے ڈاکٹر ميں مريض کا علاج کرنے کي صلاحيت پيدا ہوتي ہے اور ايک ڈاکٹر ہي کسي مرض کو بہتر طور سمجھ کر موزون علاج و معالجہ کرسکتا ہے- عقل کا تقاضا ہے کہ کوئي بھي انسان مرض کي حالت ميں تربيت يافتہ طبيب کے ساتھ ہي مشورہ کرے اور رب کائنات سے شفا طلب کرتے ہوئے اپني صحت کے ساتھ غير معمولي کھلواڑ کئے بغير صحتياب ہو نے کي سعي کرے-

ليکن ہماري وادي کشمير ميں اس معاملے ميں بھي لوگ کافي لاپروائي کا مظاہرہ کرکے خوامخواہ اپنے آپ کو مصائب ميں مبتلا کرديتے ہيں- يہاں کا باوا آدم ہي نرالا ہے اورجب بھي کوئي شخص بيمار ہو جاتا ہے تو وہ پہلے از خود اپنے مرض کي نوعيت کے بارے ميں فيصلہ لے کر اپنا علاج شروع کرتا ہے- اگر کبھي کسي کو اپنا خود کا علاج موافق لگا تو وہ ديگر مريضوں کيلئے بھي ادويات تجويز کرنے کي شروعات کرتا ہے- (جاری ہے)

Leave a Reply