Home » مضبوط جسم اور مضبوط ہڈي

مضبوط جسم اور مضبوط ہڈي

مضبوط جسم اور مضبوط ہڈي

مضبوط جسم  اور مضبوط ہڈی

ہڈي کي مضبوطي اور بناوٹ کے ليۓ کيلشيم کي اشد ضروي ہوتي ہے – جسم ميں پاۓ جانے والے کيلشم کا 99 فيصد حصہ ہڈي ميں ہي پايا جاتا ہے – جسم ميں کيلشيم کي اور بھي بہت جگہوں پر ضرورت ہوتي ہے مثلا پٹھوں کے کام کرنے ميں ، اعصابي نظام ميں وغيرہ وغيرہ – اگر خون ميں کيلشيم کي کمي ہو جاۓ تو انسان کی سانس رک جانے کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ اگر خون ميں کيلشيم کي مقدار بڑھ جاۓ تو دل اپنا کام کرنا چھوڑ ديتا ہے – قدرتي طور پر ايک بہت ہي منظم انداز ميں خون ميں کيلشيم کي مقدار کو کنٹرول کيا جا رہا ہوتا ہے – ايسي صورت ميں اگر خون ميں کيلشيم زيادہ ہو تو وہ ہڈيوں ميں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے جبکہ اگر خون ميں کيلشيم کي کمي ہو تو ہڈيوں سے کيلشيم خون ميں آنا شروع ہو جاتا ہے –

ايسي حالت جس ميں کسي بھي وجہ سے ہڈي کے مادے کم ہونا شروع ہو جاتے ہيں اور ہڈي کي Bone mineral density کم ہو جاتي ہے تو ہڈي اندر سے کمزور اور کھوکھلي ہو جاتي ہے جس کے نتيجے ميں اس کے ٹوٹنے کے خطرات بڑھ جاتے ہيں ، اس کو ميڈيکل کي اصلاح ميں Osteoporosis کا نام ديا جاتا ہے –

 

Osteoporosis کي اقسام ،علامات اور وجوھات

بيماري کي اقسام

اس بيماري کو کلي طور پر دو قسموں ميں تقسيم کيا جا سکتا ہے – ايک ابتدائي اور دوسري ثانوي – ابتدائي قسم کا شکار بوڑھے افراد ہوتے ہيں يا پھر سن يائسگي کے بعد خواتين ہوتي ہيں جبکہ ثانوي اوسٹيوپروسس کا شکار بچے اور بڑے يکساں طور پر ہو سکتے ہيں – يہ حالت دوسري بيماريوں کے نتيجے ميں پيش آتي ہے مثلا کينسر ، ھارمونز کے مسائل يا پھر بعض ادويات کے برے اثرات کے طور پر –

اوسٹيوپروسس کي علامات

اس بيماري کا مسئلہ يہ ہے کہ اس بيماري کي علامات کا ہميں اس وقت پتہ چلتا ہے جب يہ بيماري اپني انتہا کو پہنچ چکي ہوتي ہے يعني يہ بيماري بڑي خاموشي کے ساتھ حملہ آور ہوتي ہے – ابتدائي طور پر بيماري کي کوئي علامت سامنے نہيں آتي ہے – اس بارے ميں ہم ابتدائي طور پر احتياطي تدابير اختيار نہيں کرتے ہيں ليکن ہميں تشويش اس وقت ہوتي ہے جب مريض کي کوئي نہ کوئي ہڈي ٹوٹتي ہے – اس بيماري ميں مبتلا افراد کي ہڈياں اس حد تک ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے کہ ذرا سي چوٹ يا دباو کے نتيجے ميں بھي ہڈي کے ٹوٹنے کا انديشہ ہوتا ہے – بعض افراد ميں چھينک لينے يا پھر تيزي کے ساتھ اٹھنے کي وجہ سے ہڈي کے ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے – جسم کے جن حصّوں ميں زيادہ تر ہڈياں ٹوٹتي ہيں ان ميں ريڑھ کي ہڈي ، کلائي اور کولہے کي ہڈي شامل ہيں –

دوسري علامات ميں ، وقت کے ساتھ مريض کے وزن ميں کمي واقع ہوتي ہے ، مريض کي جسماني ساخت خراب ہونا شروع ہو جاتي ہے – ( جاري ہے )

Leave a Reply