Home » کارپل ٹونل سینڈروم کي علامات

کارپل ٹونل سینڈروم کي علامات

کارپل ٹونل سینڈروم  کي علامات

کارپل ٹونل سینڈروم  کی علامات

عام طور پر اس کي علامات بتدريج ظاہر ہوتي ہيں -ہاتھ کے جس حصے کو اس  عصب  کي ترسيل ہوتي ہے وہ حصہ سن ہونا شروع ہو جاتا ہے ، درد کا احساس ہوتا ہے ، بےحسي سي محسوس ہوتي ہے يا اس حصے ميں ايک عجيب سي سرسراہٹ ہوتي ہے –

* اکثر اوقات رات کے وقت نيند کے دوران شديد درد کا احساس ہوتا ہے جس کي وجہ سے بيشتر اوقات متعلقہ شخص بيدار بھي ہو جاتا ہے اور مريض جب ہاتھ کو ہلاتا ہے تو اسے قدرے درد سے نجات ملتي ہے – جب يہ مرض ذرا شدّت اختيار کر جاتا ہے تو يہي درد دن کے وقت بھي محسوس ہوتا ہے –

* مريض مکا یا مٹھي بنانے سے قاصر ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ کي گرفت کمزور پڑ جاتي ہے  اور يوں اسے روز مرّہ کے کام کاج کي انجام دہي کے دوران شديد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے – مثلا ڈرائيونگ ، ٹائپنگ اور حتي کسي کپ کو اٹھانے ميں بھي دشواري ہوتي ہے –

*  اگر مرض کو بروقت قابو نہ کيا جاۓ يا حفاظتي تدابير اختيار نہ کي جائيں تو  انگوٹھے کے نيچے والے پٹھے کمزور پڑ جاتے ہيں  اور بعض افراد کي قوّت حس بھي متاثر ہوتي ہے جس کے بعد وہ ٹھنڈي اور گرم چيز کو تشخيص دينے سے قاصر ہوتے ہيں –

بيماري کي وجوہات :

اس بيماري ميں زيادہ تر مسئلہ خود اس ميڈين عصب کے اندر نہيں ہوتا ہے بلکہ کسي دوسري وجہ سے اس عصب پر دباۆ پڑتا ہے جس کے بعد اس کي علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتي ہيں – مثال کے طور پر

* بعض افراد ميں پيدائشي طور پر يہ  tunnel   تنگ ہوتا ہے  اور کسي ذرا سي بھي ثانوي وجہ سے اس پر دباۆ پڑنے کا  خدشہ زيادہ ہوتا ہے –

*  بعض اوقات کلائي پر چوٹ لگنے کے باعث سوزش ہوتي ہے اور اس سوزش کے نتيجے ميں اس عصب پر دباۆ پڑتا ہے –

* بعض ہارمونز کي زيادتي يا حد سے زيادہ فعاليت کي وجہ سے بھي اس پر دباۆ پڑنا شروع ہو  جاتا ہے –

*  خاص طرح کي بيماريوں ميں ثانوي طور پر يہ مسئلہ سامنے آتا ہے – مثال کے طور پر آرتھرائٹس يا ذيابطيس کے مريضوں ميں يہ چيز اکثر ديکھنے کو ملتي ہے –

*  بعض متواتر اور لگاتار حرکات کے نتيجے ميں يہاں پر دباۆ پڑنا شروع ہو جاتا ہے –

* خواتين  ميں سن يائستگي  کے بعد يا حاملگي کے دوران مائعات کا توازن بگڑنے کي وجہ سے بھي يہ مسئلہ پيش آتا ہے –

*  موٹے افراد زيادہ اس بيماري کا شکار ہوتے ہيں –

* سگريٹ نوشي کرنے والے افراد ميں ميڈين عصب تک خون کي رسائي کم ہو جاتي ہے جس کے باعث يہ مسئلہ سامنے آتا ہے –

* معمولا چاليس سال سے زائد عمر کے افراد ميں بھي  اس مسئلہ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے –

* ہاتھ کے اس حصے ميں کسي پھنسي يا ٹيومر کے نتيجے ميں بھي شکايت سامنے آتي ہے –

Leave a Reply