Home » کارپل ٹونل کی تشخيص

کارپل ٹونل کی تشخيص

کارپل ٹونل کی تشخيص

کارپل ٹونل کی تشخیص

اس بيماري کي تشخيص کے ليۓ بہتر ہے کہ مريض کسي قريبي فيزيوتھراپسٹ ، آرتھوپيڈک سرجن يا نيوروسرجن سے رجوع کرے –  معاشرے کے ايک عام فرد کے ليۓ ہم چند طريقوں کا ذکر کر ديتے ہيں جس کو انجام دے کر بيماري کے بارے ميں تھوڑا بہت اندازہ لگايا جا سکتا ہے –

*    Phalen  Maneuver    ايک ٹسٹ کا نام ہے جس ميں ہاتھ کو ايک منٹ تک ايک خاص حالت ميں رکھا جاتا ہے – اگر اس دوران ہاتھ کے اس حصے ميں جہاں اس عصب کي ترسيل ہوتي ہے ، علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائيں تو  بيماري  پر شک کيا جاتا ہے اور اس صورت ميں فوري طور پر معالج سے رجوع کرنا چاہيۓ –

کارپل ٹونل کی تشخیص

* Tinnel Sign   ايک دوسرا طريقہ ہے جس ميں عصب کے راستے پر ہلکي ضربيں لگائي جاتي ہيں جس کے نتيجے ميں بھي اس بيماري کي علامات شدّت اختيار کر جاتي ہيں –

کارپل ٹونل کی تشخیص

* اليکڑومائيو گرافي  ، بھي تشخيص کے ايک بہتر طريقہ ہے جس ميں متعلقہ عصب  کي رفتار کے لحاظ سے کارکردگي کو جانچ ليا جاتا ہے اور يوں آساني کے ساتھ اس عصب ميں کسي بھي مسئلے کي تشخيص ممکن ہوتي ہے –

* کسي دوسري بيماري يا  مسئلے کا پتہ لگانے کے ليۓ يہ بھي ضروري ہے متعلقہ مريض کے خون کا ليباريٹري ٹيسٹ کيا جاۓ –

 بیماری کا علاج :

بيماري کے علاج کے ليۓ بہتر ہوتا ہے کہ پہلے بيماري کي اصل وجہ کا پتہ لگايا جاۓ – مثال کے طور پر اگر اس حصّے پر کسي وجہ سے دباۆ پڑ رہا ہے تو اس دباۆ کو ہٹانے کي کوشش کريں –

اگر کسي  خاص بيماري کي وجہ سے ثانوي طور پر يہ مسئلہ سامنے آ رہا ہے تو اس خاص بيماري کا علاج کريں اور اس کے ساتھ ساتھ اپني روز مرّہ کي زندگي ميں تبديلياں لائيں  اور کسي قريبي فيزيوتھراپسٹ سے اس کے بارے ميں بہتر جانکاري حاصل کريں –

* اگر کسي خاص طرح کي چيز کے استعمال سے ہاتھ کے اس حصے پر دباۆ پڑ  رہا ہے تو اس کا استعمال کم  کر ديں  –

* ٹائپنگ کے دوران طبي معيار کے مطابق ماۆس پيڈ کا استعمال کريں  اور ميز اور کرسي کي اونچائي کا خيال رکھيں تاکہ  ٹائپنگ کے دوران ہاتھ پر زيادہ دباۆ نہ پڑے –

* حاملہ خواتين ميں  اس بيماري کي علامات وقتي طور پر ظاہر ہوتي ہيں اور اس ميں کسي خاص علاج کي ضرورت نہيں ہوتي ہے – بچے کي پيدائش کے بعد  خواتين ميں جب مائعات کا توازن ٹھيک ہو جاتا ہے تو يہ بيماري خود بخود ٹھيک ہو جاتي ہے –

* بيماري کے علاج کے طور پر شروع ميں درد سے نجات کے ليۓ دوائيوں کا استعمال کريں – معالج بعض اوقات cortisone   کے انجکشن کا استعمال کرتا ہے اور اگر پھر بھي مرض کنٹرول نہ ہو تو آخري حل کے طور پر اس حصے کي سرجري کي جاتي ہے اور اس حصّے پر پڑنے والے زائد دباۆ کو کم کرنے کي کوشش کي جاتي ہے –

Leave a Reply