Home » sexual knowledge » کامیاب شادی کا بھید

کامیاب شادی کا بھید

’’یقین نہیں آتا یہ سب کچھ میرے ساتھ ہورہا ہے ،میرا شوہر مجھے چھوڑ رہا ہے!‘‘

مشہور میرج کونسلر ایلن لائے کہتی ہیں ’’ اپنی پیشہ ور زندگی میں اس قسم کے الفاظ مجھے کم وبیش روزانہ ہی سننے پڑتے ہیں ۔ میں ایسے جوڑوں سے ملتی ہوں جن کی ازدواجی زندگی بھنور میں ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے علیحدگی پر آمادہ ہوتے ہیں ۔ اکثر اوقات میاں بیوی میں سے کوئی ایک واقعات کے اچانک رخ پر بھونچکا رہ جاتا ہے ۔ وہ حیران ہوتا ہے کہ حالات اس قدر جلدی قابو سے باہر ہوسکتے ہیں ۔
’’ بہرحال میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ ازدواجی زندگی میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی علامتیں بہت پہلے نمایاں ہونے لگتی ہیں مگر عموما ان کو نظرانداز کردیا جاتا ہے لیکن ہوشیار جوڑے ان علامتوں کو نظرانداز نہیں کرتے ۔ وہ فورا ان کا مطلب سمجھتے ہیں اور آنے والی خرابی سے بچنے کے لیے اپنی ازدواجی زندگی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنے میں جت جاتے ہیں ‘‘۔
ایلن لائے صاحبہ نے اپنے طویل تجربے ، مطالعے اور مشاہدے کی بنا پر خرابی کی سات عمومی علامتوں کی وضاحت کی ہے ۔ انہوں نے زیادہ خوش گوار اور صحت مند ازدواجی زندگی کے مشورے بھی دئیے ہیں ۔

اب آپ مل کر نہیں ہنستے

میاں بیوی محبت بھری زندگی گزار رہے ہوں تو وہ مل کر خوش ہونا پسند کرتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ، اور غفلت سے کام لینے کے سبب ، ازدواجی تعلق ڈل اور بے کیف ہوجاتا ہے ۔
ایک خاتون نے مجھے بتایا ’’ میرا شوہر شام کو تھکا ہارا اور بور ہو کر گھر آنے لگا۔ گھر پہنچ کر وہ گالف کھیلنے والے ساتھی کا انتظار کرنے لگتا۔ اس کے دوست کی آمد تک میرے شوہر کی یہی کیفیت رہتی ۔ جونہی دوست آتا وہ پہلے جیسا خوش باش نظر آنے لگتا ۔ یہ حالت دیکھتے ہی میں سمجھ گئی کہ ہماری ازدواجی زندگی میں تبدیلیوں کا وقت آگیا ہے ۔‘‘
یہ بھی یاد رکھیں کہ محبت کرنے والے جوڑے ایک دوسرے کے لیے غیر متوقع خوشیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں ۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں مثلا شوہر گھر لوٹتے ہوئے راستے سے پھول خرید لیتا ہے ۔ وہ پھولوں کا تحفہ وصول کرتے ہوئے بیوی کی آنکھوں میں پیدا ہونے والی چمک سے لطف اندوز ہوتا ہے ۔
بات اصل میں کسی تحفے کی نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی ہے ۔ جب ازدواجی زندگی سے اس قسم کی بظاہر چھوٹی موٹی باتیں ختم ہوجائیں تو جان جائیں کہ شادی بے لطف اور بے جان ہوگئی ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ اس میں دوبارہ زندگی پیدا کرنے پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے ۔

آپ کی ازدواجی زندگی بے کیف ہوگئی ہےبہت سے لوگ شاید اس حقیقت سے بے خبر ہوں گے کہ ہمارے جنسی جذبے مدوجذر کا شکار رہتے ہیں ۔ کبھی ان میں شدت اور ولولہ پیدا ہوجاتا ہے اور کبھی وہ ماند پڑ جاتے ہیں ۔لہذا جوڑوں کی زندگی میں جنس سے بے نیازی کے دن آتے رہتے ہیں ۔ اس کے باوجود جب کبھی جنس آپ کے لیے بے لطف میکانکی عمل بن جائے تو اس معاملے پر فورا توجہ دیں ۔
شادی کے پانچ سات سال بعد عموما جنس میں پہلے برسوں جیسی کشش نہیں رہتی مگر پرلطف جنسی لمحات زندگی میں آتے رہنے چاہئیں ۔ مانا کہ سیکس ہی سب کچھ نہیں ہے تاہم وہ محبت اور ازدواجی زندگی کو پرمسرت بنانے میں بہت مددگار ہوتا ہے ۔

آپ غیروں کو رازدان بناتے ہیں

اکثر جوڑوں کے دوست ہوتے ہیں اور وہ ان کو اپنے رازوں میں شریک بھی کرلیتے ہیں لیکن جب آپ اپنے شریک حیات کے مقابلے میں کسی دوست پر زیادہ بھروسہ کرنے لگین ۔۔۔ خاص طور پر جب کہ اس دوست کا تعلق مخالف صنف سے ہو اور آپ اس کو ازدواجی زندگی کی ایسی باتیں بتانے لگیں جن سے آپ کے شریک حیات کی نجی زندگی میں دخل اندازی ہوتی ہے ۔۔۔ تو پھر صاف طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی ازدواجی زندگی میں خرابی پیدا ہوگئی ہے ۔
اسی طرح اگر آپ کسی غیر کے ساتھ جنسی عمل کے خیالوں میں گم ہونے لگیں تو اس کو بھی خرابی کی علامت سمجھیں ۔ جنسی فینٹسی ایک حد تک رہے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ یہ تو فطری سی بات ہے لیکن کسی غیر یا غیروں کے ساتھ جنسی رنگ رلیاں آپ کے خوابوں اور خیالوں پر چھانے لگیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی ازدواجی زندگی سے بے زار ہیں اور اس سے فرار کی راہیں ڈھونڈ رہے ہیں ۔

ساتھی آپ کے بدترین روپ کو اجاگر کرتاہے

پرمسرت ازدواجی زندگی آپکی اچھائیوں کو ، آپ کے تخلیقی روپ کو نمایاں کرتی ہے ۔ اس کے برخلاف ناگوار ازدواجی زندگی آپ کی خرابیوں کو اظہار کے مواقع دیتی ہے ۔
جب چھوٹی چھوٹی باتیں تکرار کا باعث بننے لگیں ،جب ایک دوسرے کو لعن طعن مسلسل وتیرہ بن جائے ، میاں بیوی بات بات پر جھگڑنے لگیں ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر تل جائیں تو پھر سیدھی سی بات یہ ہے کہ ان کا تعلق بوجھ بن چکا ہے ۔
ازدواجی امور کے اکثر ماہرین کے نزدیک میاں بیوی میں کسی حد تک اختلاف ہو تو کوئی حرج کی بات نہیں ۔ اس میں کوئی غیر معمولی معاملہ نہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ایک دوسرے کو دکھ دئیے بغیر اور انا کو ٹھیس پہنچائے بغیر اختلاف کی گنجائش موجود ہو تو یہ رشتے کی کمزوری کے بجائے اس کے استحکام کی علامت ہے ۔
ہاں ، جب اختلاف بات بات پر ہو،الجھنے اور جھگڑنے کا سبب بننے لگے ، میاں بیوی ہر معاملے میں ایک دوسرے کے سامنے آجائیں تو جان جائیں کہ ان کے تعلق میں کوئی گہری خرابی پیدا ہوچکی ہے ۔

آپ پرانی باتیں یاد نہیں کرتے

جب آپ گھر میں بیٹھ کر بیتے ہوئے دنوں کو یاد نہ کریں اور دل کی باتیں دل ہی میں رکھنا چاہیں تو یہ خرابی کا ایک اور اشارہ ہے ۔
معاملہ یہ ہے کہ خوش باش ازدواجی زندگی بسر کرنے والے اکثر میاں بیوی پرانے دنوں کو یاد کرکے اپنے تعلق ناطے کو مضبوط بناتے رہتے ہیں ۔
وہ مل کر خاندانی تقاریب کی فلمیں دیکھتے ہیں ،پرانی تصویروں کی المبوں کی ورق گردانی کرتے ہیں ، ماضی کے واقعات دہراتے ہیں اور ان وقتوں پر ہنستے بھی ہیں جب ان کو کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑاتھا مگر انہوں نے مل کر ، ہاتھوں میں ہاتھ لے کر مشکلات کا مقابلہ کیا تھا ۔ جب اس قسم کی یادیں تازہ کی جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ احساسات میںکوئی نمایاں تبدیلی رونما ہوچکی ہے ۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ جب دو افراد مل جل کر رہتے ہیں تو وہ ضرور اپنے خیالات کے بارے میں وقتا فوقتا باتیں کرتے رہتے ہیں ۔ وہ ایک دوسرے کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان کے خیالات ، تصورات اور اعتقادات میں کس قسم کی تبدیلیاں آرہی ہیں ۔ اس طرح ساتھی کو اپنی ذہنی دنیا کی سیر کرانا اصل میں باہمی محبت اور بھروسے کی نشانی ہے ۔اس لیے اگر آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ایک عرصے سے آپ اپنے ساتھی کے ساتھ اس قسم کے معاملات پر گفتگو نہیں کر رہے تو جان جائیں کہ یہ بھی خرابی کی علامت ہے ۔

آپ مشترکہ دلچسپیوں کو فروغ دینا بند کردیتے ہیں

ہمارے زمانے میں ازدواجی بندھنوں کے باوجود میاں بیوی کی آزادی کا احترام کرنے کا بہت چرچا ہوتا ہے ۔ پہلے یہ معاملہ مغربی دنیا تک محدود تھا مگر اب یہ تصور ہمارے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی مقبول ہو چکا ہے ۔
خیر ،اس میں کوئی خرابی نہیں ۔ شادی سے دو افراد ایک نہیں ہوجاتے ۔ ان کی علیحدہ علیحدہ شناخت اور وجود قائم رہتے ہیں ۔ اس لیے ان کی انفرادی آزادی قابل قدر ہے ۔ تاہم شادی کے بندھن کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان مشترکہ دلچسپیاں موجود رہیں۔ چونکہ ہماری دلچسپیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں لہذا نئی سرگرمیوں اور نئے دوستوں کو قبول کرنے پر ہمیں آمادہ رہنا چاہئے ۔
مشترکہ دلچسپیاں موجود ہوں تو میاں بیوی فرصت کے اوقات سے اکھٹے لطف اٹھا سکتے ہیں ۔ ان کی موجودگی میں یہ نہیں ہوتا کہ جب کبھی فرصت نصیب ہو یا چھٹی کا دن آئے تو میاں منہ اٹھا کر باہر نکل جائے ۔ بیوی گھر بیٹھ کر ٹی وی پر پروگرام دیکھ کر کڑھتی رہے ۔
مشترکہ دلچسپیاں دونوں کو مل جل کر فرصت کے لمحات گزارنے کا موقع دیتی ہیں ۔ اس لیے جب میاں بیوی دونوں اس قسم کی دلچسپیوں اور مشغلوں کو فروغ دینے میں بے نیازی سے کام لینے لگیں تو یہ ایک منفی اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ ان کی ازدواجی زندگی میںسب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔

آپ اپنے ساتھی سے گریز کرنے لگتے ہیں

ساتھی سے فرار کے مواقع کی تلاش میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ بندھن کمزور ہورہاہے ۔ اس میں محبت کی کمی ہے ۔ آپ اس کو بوجھ سمجھنے لگے ہیں ۔ممکن ہے کہ آپ کو اس امر کا احساس نہ ہو اور یہ عمل لاشعوری سطح پر جاری ہو ۔ پھر بھی یہ رویہ ازدواجی زندگی کے لیے نیک شگون نہیں ہے ۔
ساتھی سے فرار کا ایک عام طریقہ گھر دیر سے جانا ہے ۔ اور بھی طریقے ہیں ۔ مثلا گھر سے باہر ضرورت یا معمول سے زیادہ دلچسپیاں تلاش کرنا ، جلدی سونا یا پھر اس انتظار میںرہنا کہ ساتھی کی آنکھ لگ جائے تو آپ بیڈ روم میں داخل ہوں ۔
اس طرح اگر آپ نے اپنے ساتھی کی پسند کا لباس پہننا چھوڑ دیا ہے یا اس کے پسندیدہ کھانے آپ کو زہر لگنے لگے ہیں تو اس کو بھی پرمسرت ازدواجی زندگی کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھیں ۔
یہ خطرے کی سات علامتیں ہیں ۔ اصل میں یہ بہت ہی نمایاں قسم کی علامتیں ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ان کے علاوہ اور بھی کئی علامتیں ممکن ہیں تاہم ان سب کو یہاں درج کرنے اور ان کی تفصیل بیان کرنے کی بجائے ہم کہیں گے کہ جس قدر زیادہ منفی علامتیں آپکو اپنی ازدواجی زندگی میں نظر آئیں ، اسی قدر آپ کو احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ آپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ آپ اور آپ کے شریک حیات کو ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے پرسنجیدگی سے توجہ دینے کا وقت آگیا ہے ۔
یہ وقت ہمیشہ نہیں رہتا ۔ اس سے فائدہ نہ اٹھایا جائے تو حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں ۔ علیحدگی تک نوبت نہ پہنچے تو بھی گھریلو زندگی عذاب بن جاتی ہے ۔ دو افراد کی رفاقت خوشیوں کا وسیلہ بننی چاہئے مگر بگڑ کر وہ اذیت کا باعث بن جاتی ہے ۔
یہاں ہم آپ کی مدد کے لیے چند تجاویز درج کر رہے ہیں ۔ ان پرعمل کرکے آپ اپنے کمزور پڑتے تعلق کو دوبارہ مضبوط بنا سکتے ہیں ۔

سنجیدہ گفتگو سے آغاز کریں

ہمارے ہاں اکثر جوڑے اپنے تعلق سے غیر مطمئن ہونے کے باوجود مسائل پر سنجیدگی سے گفتگو نہیں کرتے ۔ وہ زبان کھولنے سے گریزاں رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بات شروع ہوئی تو دور تک نکل جائے گی یوں وہ اندر ہی اندر سلگتے رہتے ہیں ۔
اس صورت حال میں یہ ہوتا ہے کہ میاںبیوی میں سے کوئی ایک ہمت کرکے اپنے مسائل پر گفتگو شروع کردے تو دوسرے کو بھی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔وہ گفتگو کے ذریعے مسائل حل کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے ۔
بے اطمینانی ظاہر کرنے کے درست اور غلط دونوں قسم کے طریقے موجود ہیں ۔اگر شوہر بات کا آغاز ہی یوں کرے ـ’’ تم تو ان دنوں عذاب ہوگئی ہو‘‘ تو اس سے بات بننے سے پہلے بگڑ جائے گی ۔
اس کی بجائے اگر وہ یہ کہے کہ لگتا ہے ہم میں پہلی سی قربتیں نہیں رہیں ۔مجھے اس کا ملا ل ہے ۔ کیا تم بھی ایسا ہی محسوس کرتی ہو ؟ تو یہ جملہ دونوں کے درمیان بامعنی مکالمے کی بنیاد بن سکتا ہے ۔
مکالمہ شروع کرنے کی خاطر آپ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ تعلق کو پہلے جیسا توانا بنانے کے لیے آپ کو کیا کرنا چاہئے ۔ یہ سوال طنزیہ انداز میں نہ کیا جائے تو فورا ہی دل کی باتین زبان تک لانے کا سبب بن جاتا ہے ۔
ہوسکتا ہے کہ تعلق کو بہتر بنانے اور اس میں پیدا ہونے والی خرابیاں دور کرنے کے لیے آپ کے ساتھی کی تمام تجاویز آپ کے لیے قابل قبول نہ ہوں یا آپ ان کو ناقابل عمل خیال کریں لیکن آپ کی گفتگو حالات کو بہتر بنانے کی حقیقی خواہش کو نمایاں کرتی ہے ۔ یوںآخرکار کوئی نہ کوئی راہ مل ہی جاتی ہے ۔

باتیں کرتے رہیں

سب سے زیادہ خوش باش ازدواجی زندگی گزارنے والے جوڑے صرف آپس میں باتیں کرنے کے لیے باقاعدگی سے وقت نکالتے ہیں ۔
ڈنر کے بعد یا چائے پیتے ہوئے میں اور میر ی بیوی ہمیشہ گپ شپ لڑاتے ہیں ۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ہمیں ایک دوسرے کے معاملات کو جاننے کا موقع ملتاہے ۔
بعض جوڑے باتوں کے لیے گھر سے باہر چلے جاتے ہیں ۔ زیادہ دور نہ سہی ، وہ سڑک پر چہل قدمی کرتے ہیں یا کسی پارک میں بنچ پربیٹھ جاتے ہیں ۔یوں مصروف زندگی کی دوڑ سے چند لمحے چرا کر وہ ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

تفریح کے لیے وقت نکالیں

کئی جوڑے شکایت کرتے ہیں کہ ان پر پورے خاندان کا بوجھ ہے ۔ بچے بڑے ہورہے ہیں ۔لہذا ہنسنے کھیلنے اور موجیں اڑانے کے دن اب کہاں رہے ہیں ۔لیکن یاد رکھیں کہ ہنسنے کھیلنے اور تفریح کے لیے ہمیشہ ڈھیر سارے روپوں کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اس کے لیے تخلیقی سوچ درکار ہوتی ہے ۔
کسی رات آپ آئس کریم کھانے چلے جائیں ۔ وہ کسی مہنگے ڈنر سے زیادہ پرلطف ہوسکتی ہے ۔ خوش باش جوڑے کبھی کبھی بچوں جیسی حرکتیں کرتے ہیں ۔ وہ ایک دوسریکو چھیڑتے ہیں ، جملے کستے ہیں ، لطیفے سناتے ہیں اور ہنستے ہنستے ایک دوسرے کے بازوؤں میں گر جاتے ہیں ۔

خیال رکھا کریں

کسی جوڑے کی جنسی زندگی اتنی ہی تسکین دہ ہوتی ہے جتنی تسکین وہ بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ گویا یہ محنت کے ثمر والا معاملہ ہے ۔ آپ جتنا گڑ ڈالیں گے ، اتنا ہی میٹھا ہوگا ۔ اگر آپ خود کو ،اپنے ساتھی اور ماحول کو تیار کرنے پر وقت صرف نہیں کریں گے یا نئے انداز نہیں اپنائیں گے اور ایک ہی ڈگر پرچلتے رہیں گے تو پھر تعلق میکانکی اور بے کیف ہونے لگے گا۔
عام طورپر ہوتا یہ ہے کہ شادی کے چند سال بعد میاںبیوی جنسی خواہش کی شدت کے لمحون کے علاوہ ایک دوسرے کو چھونے سے بھی گریز کرتے ہیں ۔ اس کے نتیجے میں دونوں میں ایک خاص قسم کی دوری پیدا ہوجاتی ہے۔
ایک شخص نے مجھے بتایا کہ دو برسوں سے اس کا معاملہ ایک غیر عورت سے چل رہا ہے ۔میں سمجھا کہ وہ کسی پرجوش معاشقے کا قصہ سنائے گا مگر اس نے انکار کیا اور کہنے لگا۔ ’’ نہیں ۔ معاشقے والی کوئی بات نہیں ۔ مجھے سیکس نہیں ،قربت چاہئے ۔ جب وہ عورت میرے پاس ہوتی ہے تو میں گھنٹوں اس سے ایسی باتیں کرتا ہوں جو کسی اور سے نہیں کر سکتا اور اس کے بدن کو چھوتا رہتا ہوں۔

زیادہ محبت جتلائیں

فرنیچر کی چمک باربار کی پالش کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ اسی طرح محبت بھی چاہتوں کے کئی اشاروں کی عطا ہوتی ہے ۔
چند ماہ پہلے میں اپنے پسندیدہ سگار کے نایاب ہونے کی شکایت کررہا تھا ۔میں نے کئی دکانوں سے پوچھا مگر وہ نہ ملے ۔ میری بیوی نے یہ بات سنی تو خاموش رہی لیکن دوسرے ہی روز وہ میری میز پر ان سگاروں کے دو پیکٹ رکھ گئی ۔ ان دونوں کی قیمت چار سو روپے سے کم ہی ہوگی لیکن محبت کا یہ تحفہ میرے لیے انمول تھا ۔
آخر میں یہ یاد رکھیں کہ مثالی قسم کی شادیوں میں بھی کبھی کبھی مشکلات پیدا ہونے لگتی ہیں ۔ محبت کا بندھن ایسا ہے جیسے دو افراد رقص کر رہے ہوں ۔ رقص میں کبھی آپ اپنے ہم نشین کے قریب ہوتے ہیں اور کبھی قدم دور رکھتے ہیں ۔ جب میاںبیوی کے قدم ایک دوسرے سے ہٹ رہے ہوں تو وقت آجاتا ہے کہ وہ دوبارہ قریب آنے کے لیے اس تحریر میں موجود تجاویز پرعمل کریں ۔ اگر دونوں کو ازدواجی بندھن عزیز ہے تو پھر وہ رقص ختم ہونے سے پہلے ایک دوسرے کے بازوؤں پر آگریں گے ۔