Home » ہاتھ کي اعصابي بيماري

ہاتھ کي اعصابي بيماري

ہاتھ کي اعصابي بيماري

ہاتھ کی اعصابی بیماری

ہمارا انساني جسم  بھي ايک مشين کي مانند ہوتا ہے – اگر ہم اپنے روز مرّہ کام کاج کي انجام دہي کے دوران ضرورت سے زيادہ اپنے جسم کو استعمال کرتے ہيں ، مناسب غذا استعمال نہيں کرتے ہيں ، جسماني اعضاء کي حفاظت نہيں کرتے ہيں يا کسي بھي کام کو کرتے ہوۓ احتياطي تدابير اختيار نہيں کرتے ہيں تو  ايسي صورت ميں ہمارے جسم کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بہت بڑھ جاتا ہے –

بہت سارے پيشے ايسے ہوتے ہيں جن ميں ہم ہاتھ کا استعمال ضرورت سے زيادہ کرتے ہيں اور ايک تسلسل سے کرتے ہيں – مثال کے طور پر درزي ، کسان ، ترکھان ، رنگ کرنے والے افراد ، مصوّر يا بہت سارے ہنرپيشہ افراد ہاتھ کا استعمال کثرت سے کرتے ہيں –  موجودہ دور ميں کمپيوٹر کا استعمال بہت بڑھ گيا ہے – ماۆس  کا استعمال کرتے ہوۓ اور ٹائپنگ کرنے  کي وجہ سے ہاتھ کو ايک پيچيدہ قسم کي بيماري لگنے کا خطرہ ہوتا ہے جسے ہم ميڈيکل کي اصلاح ميں Carpal Tunnel Syndrome   کہتے ہيں –

Carpal  درحقيقت لفظ Carpus  سے نکلا ہے جس کے معني کلائي کے  ہيں  اور يہ اصل ميں ايک يوناني لفظ karpos   سے ليا گيا ہے – carpus  آٹھ چھوٹي چھوٹي ہڈيوں کے مجموعے کو کہتے ہيں جو کلائي اور ہاتھ کے درميان ہوتي ہيں – Tunnel  کسي تنگ راستے کو کہا جاتا ہے اور يہاں پر جو تنگ راستہ بنتا ہے اس ميں سے 9 ٹنڈون اور ايک عصب گزرتي ہے – اس حصّے کو اوپر سے ايک ليگامنٹ نے گھيرا ہوتا ہے – کسي بھي وجہ سے جب اس حصّے  پر دباۆ پڑتا ہے تو اس کي علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتي ہيں – ہمارے جسم  ميں ہڈيوں ، پٹھوں اور اعصاب کا ايک مرتب اور منظم قسم کا نظام موجود ہے – دماغ  ہمارے اعصابي نظام کا مرکز ہوتا ہے جبکہ يہاں سے اعصاب کے ذريعے سے پورے جسم کو قابو کيا جاتا ہے – اس تنگ راستے سے جو عصب گزرتي ہے اسے ميڈين کہا جاتا ہے اور يہ عصب ہاتھ کي چھوٹي انگلي اور آدھي انگھوٹي والي انگلي کو چھوڑ کر باقي ہاتھ کو عصب رساني کرتي ہے –

Leave a Reply