Home » احتلام

احتلام

مردوں میں جوان ہونے یعنی بالغ ہونے کی سب سے بڑی علامت احتلام ہے۔ دنیا کا کوئی مرد (نوجوان) یہ نہیں کہ سکتا کہ اسے احتلام نہیں ہوا۔ احتلام اس کیفیت کو کہتے ہیں جب حالت خواب میں جب منی پوری طرح ڈسچارج ہو جائے۔لیکن اگر بیماری بہت پرانی ہو جائے اور اس میں بھی منی خارج ہوجاتی ہے۔ جوش جوانی، گرم غذاء کے بکثرت استعمال اور ذہن میں سیکسی خیالات ہی بھرے رہتے ہیں اور جو نہیں خیالات کو وہ حالاتِ خواب میں دیکھتے ہیں تو مادہ تولید خارج ہو جاتا ہے۔ احتلام کی زیادتی کئی طرح کی بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔ احتلام کی زیادتی کئی طرح کی بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔ اس کی وجہ سے مردانہ قوت میں کمی آجاتی ہے، عضو تناسل میں سستی آجانے سے اس کی سختی اور تناؤ کم ہو جاتا ہے۔ شہوت پوری طرح نہیں آتی اور اگر شہوت آئے تو عضو تناسل فوراً ہی ٹھنڈا ہو کر ڈھیلے پائپ کی طرح لٹک جاتا ہے۔ منی پانی کی طرح پتلی ہو جاتی ہے۔ جس سے مردانہ بانجھ پن کی شکایت ہو سکتی ہے۔ مریض کو ہم وقت تھکن، سستی، اور کمزوری محسوس ہوتی ہے، ٹانگیں کانپتی ہیں،طبیت میں الجھن اور بے چینی رہتی ہے، طبیعت سے جنسی خواہش رخصت ہونے لگتی ہے اور مریض کی صحت تیزی کے ساتھ گرتی ہے جسم سوکھ جاتا ہے، ہاتھو کی رگیں نمایا ہو جاتی ہیں اور چہرے پر بہ رونقی اور زردی دیکھائی دیتی ہے۔ احتلام کی زیادتی تو جوان کی جوانی میں ہی بڑھاپے کی دہلیز لا بیٹھاتی ہے لہٰذا بیماری شروع ہوتے علاج کروانہ ضروری ہے۔

Leave a Reply