Home » ankylosing spondylitis

ankylosing spondylitis

ankylosingAnkylosing Spondylitis
Ankylosing Spondylitisگٹھیا کی ایک قسم ہے جو بنیادی طور پر پیٹھ کے نچلے حصے کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے ورم اور جوڑو ں میں نقصان ہو سکتا ہے۔ Ankylosing Spondylitisپہلے sacroiliacجوڑوں کو متاثر کرتا ہے ۔ یہ گھٹنے ،ٹخنوں کے علاوہ دوسرے حصو ں اور جوڑوں جیسے ریڑھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔
Ankylosing Spondylitisکی ایک خاصیت یہ ہے کہ سختی اکثر حرکت کے ساتھ بہتر ہو تی ہے۔ جن لوگوں میں اس خرابی کی شکایت ہو تی ہے اگر وہ باقاعدہ طو ر پر ورز ش نہیں کرتے تو حالت بد تر بھی ہو سکتی ہے کئی معاملوں میں پھیپھڑوں میں ورم اور آنکھوں میں ورم اور لالی پن ہونے کے ساتھ درد بھی وہ تاہے۔ پیٹھ کے نچلے حصے میں درد ،سختی چلنے میں پریشانی پید ا کرتی ہے۔ تقریباً کسی تہہ کا ہلنا ڈُلنا بے حد دردناک بن سکتا ہے۔
Ankylosing Spondylitisکے ممکنہ علامات ۔
(۱)Ankylosing Spondylitisمیں ہمیشہ تھکان ۔بخار۔بھوک کی کمی۔وزن میں کمی۔درد والی جگہ پر اکڑن سی محسوس ہو تی ہے ، یہ درد کمر کے نچلے حصے سے ہوتے ہوئے کولہوں کو بھی متاثر کر تاہے۔
Spine-Deformities (2)Ankylosing Spondylitis ہڈیوں کے اضافہ کا سبب ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے ہڈیوں میں غیر معمولی جڑاؤ ہو سکتا ہے ، جسے ہڈیوں کا Fusion کہتے ہیں جس میں گلے ،کمر اور کولہے کی ہڈیاں متاثر ہو تی ہیں۔
اس طر ح کے مریض کئی نوجوان بھی ہوتے ہیں ۔جسے 18سے 30 سال تک کی عمر میں اس مرض کے علامات سب سے پہلے ظاہر ہوتے ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے یا کبھی کبھی پوری ریڑھ میں طویل مدتی درد اور جکڑن جو اکثر ایک یا دو Sacroiliac Joint سے ران کے پچھلے حصے تک محسوس ہو تی ہے۔
اس بیماری سے عورتو ں کے مقابلہ میں مرد 3.1؍کے تناسب سے متاثر ہوتے ہیں۔ اور اس مرض کی وجہ سے مردوں کو عورتو ں کی بہ نسبت زیادہ درد کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔
40؍فیصد معاملوں میں Ankylosing Spondylitisمیں آنکھ کا ورم، جسم کی سو زش جس سے آنکھوں کا لال ہونا، درد ہونا، اندھا پن، آنکھو ں کے سامنے دھبّوں کا ہونا ، رتوندھی وغیرہ علامت پیدا ہو تی ہے۔ اور ایک عام علامت یہ ہے کہ زبردست تھکان اور کبھی کبھی متلی کا ہونا پھیپھڑوں کو سکُڑ نا اور شہ رگ کی سوزش وغیرہ کا ہونا ۔
18؍ سال کے عمر میں ہونے پر یہ مرض باز و یا پیر کے بڑے جوڑوں خاص کر گھٹنوں میں درداور سوجن پیدا کر سکتا ہے ، جوانی سے پہلے کی عمر کے معاملوں میں درد واور ورم ، ایڑیوں اور پیروں میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے اور ریڑھ کی ہڈی بعد میں متاثر ہو سکتی ہے۔
اکثر آرام کے وقت درد زیادہ تیز ہوتا ہے۔ اور جسمانی کام کاج سے کم ہو تاہے۔ کئی لوگو ں کو آرام اور کام کاج دونوں حالات میں مختلف پیمانے پر ورم اور درد کا احساس ہو تا ہے۔
ضمنی اثرات:
دھیرے دھیرے کمر میں درد شروع ہو تا ہے کچھ دنوں کے لئے رُک جاتا ہے پھر درد شروع ہو جاتاہے ۔ Ankylosing Spondylitisکی زیادتی شروعات میں مریضوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ اس کے علاوہ پریشان کُن اذیت ناک جوڑو کا درد، کمر کے نچلے حصے میں درد ،کولہوں میں در د ایک طویل وقت تک رہتاہے لہٰذا مخصوص طو رپر یہ ایک بہت تکلیف دہ بیماری ہے۔
Ankylosing Spondylitisاور بیماریوں کے مقابلے میں کم ہی پائی جاتی ہے ۔
یہ بیماری 1000 لو گوں میں ایک کو ہی متاثر کر تی ہے اگر خاندان کے کسی فرد کو یہ مرض ہے تو آئندہ نسلوں میں اس کا خطر ہ ہو سکتا ہے۔ اکثر یہ مرض زیادہ تندرست نوجوان مردوں پر حملہ کر تا ہے ۔ مردوں کے مقابلے عورتوں میں اس کا خطرہ 10 گنا زیادہ ہو تا ہے ۔اس خرابی کی شکایت 20 اور 40 سال کی عمر کے درمیان ظاہر ہو تی ہے ۔ لیکن بچے بھی اس مرض سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
وجوہات
ابھی تک کے سینکڑوں لوگو ں کے مطالعہ کے بعد یہ نتیجہ نکلا ہے کہ اس بیماری کے پیدا ہونے کی مکمل وجوہات معلو م نہیں ہو سکی ۔ بہر صورت کچھ مطالعوں سے یہ بیماری نسلی ہو سکتی ہے اور کچھ مطالعے یہ تصدیق کر تے ہیں کہ عورتوں میں یہ بیماری غلط طریقے سے یا 2سے 3 مردو ں کے ساتھ مباشر ت کرنے سے ہو سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ HLA-B27 معیار کی بیماری ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر آدمی یا عورت کو اسی معیار کی بیماری ہو۔
ہاشمی دواخانہ گذشتہ 85 سال کے دوران مریضوں کے علاج کے تجربے سے اس نتیجے پرپہنچا ہے کہ اس مرض پرپورا کنٹرول کر کے مریضوں کی مدد کی جاسکتی ہے۔

Herbal-medicine,-नपुंसकता-या-नामर्दी,Male-Enhancement,Sexual-desire - Copy

Leave a Reply