Home » اٹھرا کا علاج

اٹھرا کا علاج

اٹھرا کا علاج

اٹھرا بے اولادی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ہسٹیریاکی طرح اس بیماری کو بھی جادو ٹونہ اور آسیب وغیرہ سے منسوب کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مریضہ کا درست سمت میں علاج نہیں ہو پاتا۔اٹھرا کی بیماری اصل میں فسادِ خون یعنی خون میں زہریلے مادوں کے باعث ہوتی ہیجو کہ ماں سے بچے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔اٹھرا کی حالت میں بار بار حمل گر جاتا ہے اور اگر کبھی حمل قرار بھی پا جائے تو بچہ مشکل سے ہی زندہ رہتا ہے۔
ماہانہ نظام کی خرابی
بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ بچہ پورے دنوں کے بعد پیدا ہوتا ہے لیکن اس کی صحت بہت کمزور ہوتی ہے اور وہ چند دن زندہ رہنے کے بعد لقم�ۂ اجل بن جاتا ہے۔جدید طب کے مطابق جب کسی ایسے مرد جس کے خون کا R.Hفیکٹر پازیٹو ہو اس کی شادی R.Hٖٗفیکٹر نیگٹو والی عورت سے ہو جائے تو ان کے بچے کا R.Hفیکٹر پازیٹوہوگا ایسی صورت میں ان کے خون میں مخالف اجزاء پیدا ہو جائیں گے جو کہ بچے کے خون میں داخل ہو کر خون خون کے سرخ ذرات R.B.Cکو تباہ کرتے رہیں گے جس کے باعث بچہ پورے دن ہونے سے پہلے ہی مر جائیگا۔اٹھرا کے بارے میں عام طور پر تو ہم پرستی دیکھنے میں آتی ہے بالخصوص دیہی علاقوں میں ایسی عورت کی پرچھائیں کو بھی منحوس سمجھا جاتا ہے اور اس سے نئی بیا ہتا عورت کو دور رکھا جاتا ہے۔
حمل ساقط
اسی طرح حاملہ عورت کو بھی ایسی عورت کے قریب نہیں جانے دیاجاتا ۔انہیں جانے دیاجاتا ۔اٹھرا میں مبتلا مریضہ کے ساتھ ایسا رویہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ اس کی صحت کے لئے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس تو ہم پرستی میں مبتلا ہونے سے مریضہ کی اصل بیماری کا علاج نہیں ہو پاتا اور وہ بے اولادی کا شکار رہتی ہے۔

یماری-کا-علاج

Leave a Reply