Home » بریسٹ کا چھوٹا رہ جانا

بریسٹ کا چھوٹا رہ جانا

) جڑی بوٹیاں بیماریوں کے علاج میں ادویات کا بہترین متبادل اور علاج معالجہ کا معروف روایتی طریقہ بھی ہےں۔ جڑی بوٹیوں کے طریقہ علاج کو پیتھوتھراپی، ہربل ازم اور نباتاتی ادویات کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جڑی بوٹیوں کی ادویات کا بنیادی نظام آئروےدک ہربل ازم، روایتی چینی اور مغربی طریقہ علاج پر مشتمل ہے۔ متعدد جڑی بوٹیاں حیرت انگیز علاج کی صلاحیت سے مالامال ہوتی ہیں۔ نباتاتی ادویات کے ذریعے قدیم طریقہ علاج نہ صرف جسمانی بلکہ نفیساتی بیماریوںکا بھی بہترین ذریعہ علاج ہے۔ یہاں ہم آپ کو جڑی بوٹیوں کی ادویات کے چند اہم ترین فوائد سے آگاہ کرتے ہیں۔
قدرتی علاج: نباتاتی ادویات کسی بھی مرض کے علاج میں جسم کی از خود علاج کی صلاحیت کو نقصان نہیں پہنچاتیں اور نہ ہی ان کی وجہ سے دوست خلیے متاثر ہوتے ہیں۔ لہذا ان کے ذریعے زخم یا بیماری کا قدرتی علاج کیا جا سکتا ہے۔
فوائد کا تسلسل: جڑی بوٹیوں کے ذریعے بیماریوںکے علاج میں غذا، آرام اور ورزش کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے، جو نہ صرف بیماری کا جلد قلع قمع کر دیتی ہے بلکہ انسانی جسم پر اس کے دیرپا مثبت اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔
قوت مدافعت: مختلف بیماریوں سے لڑنے اور زخموں کے بھرنے میں کلیدی کردار قوت مدافعت کا ہوتا ہے۔ اور جڑی بوٹیوں کے استعمال سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے، جو پھر جلد زخم بھرنے یا بیماری کے علاج کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
میٹابولزم: بہترین قوت مدافعت اور سادہ طرز زندگی میٹابولز (نظام استحالہ) کو بڑھانے میں نہایت معاون ثابت ہوتا ہے۔ جڑی بوٹیوں کے ذریعے علاج کے دوران جنک فوڈ پیزا، برگر وغیرہ سے خصوصی طور پر پرہیز کروایا جاتا ہے، جس کا فائدہ علاج کے ساتھ ساتھ درست میٹابولزم کی صورت میں بھی نمودار ہوتا ہے۔
مضراثرات: اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جڑی بوٹیوں کے ذریعے طریقہ علاج میں بھی سائیڈ افیکٹ کا خدشہ رہتا ہے، لیکن دیگر ادویات کی نسبت نباتاتی علاج میں یہ شرح نہایت کم ہوتی ہے۔

خوبصورت ،سڈول اور سیکسی جسم عورت کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے اور اس جسم پر سب سے نمایاں اور خوبصورت نظر آنے والی چیز ہے عورت کی چھاتیاں ۔گول مٹول،سخت اور ابھری ہوئی چھاتیاں عورت کی ایسی خوبصورتی اور کشش ہے جو ہر ایک کو دیوانہ بنا دیتی ہے ۔عورت کے نقوش کتنے ہی خوبصورت کیوں نہ ہوں ،رنگ کتنا ہی سفید اور سکن کتنی ہی فریش کیوں نہ ہو اگر اس کی چھاتیاں چھوٹی ہونگی تو اس کی طرف کوئی بھی توجہ نہیں کرے گا۔عورت کی چھاتیوں کا حد سے زیادہ چھوٹا رہ جانا ایک ایسی طبی پرابلم ہے کو عورت کو احساس کمتری کا شکار کر دیتی ہے۔طبی اعتبار سے ’’‘‘گونیڈ ٹروفک ہارمون‘‘لے پہلے جزو فالیکل سٹیمولیٹنگ ہارمونز(FSH)کے تحت پیدا ہونے والے ’’ایسٹروجن ہارمون‘‘جنہیں زنانہ جنسی ہارمون بھی کہا جاتا ہے عورتوں کی چھاتیوں کی پرورش کرتا ہے اور ان کا سائز بڑھاتا ہے ۔اگر اس ہارمون کی پیداوار میں کمی آجائے تو چھاتیوں کی افزائش یعنی بڑھنا رک جاتا ہے اور عورت کی چھاتیاں چھوٹی رہ جاتی ہیں ۔جس عورت کی چھاتیاں چھوٹی رہ جائیں وہ اپنی اس خامی کی وجہ سے ہر وقت احساس کمتری کا شکار رہتی ہے۔وہ کسی بھی پارٹی میں جانے سے گریزاں ہوتی ہے وہ خود کو دوسری لڑکیوں بالخصوص جن کی چھاتیاں سڈول اور سائز میں بڑی ہوں سے کمتر اور حقیر محسوس کر تی ہے۔دوسری لڑکیاں بھی ایسی لڑکیاں بھی ایسی لڑکی سے کھچی کھچی رہتی ہیں۔مرد کو بھی ایسی عورت میں قطعاً دلچسپی نہیں ہوتی ۔وہ چھوٹی چھاتی والی عورت کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔مرد کو ہمیشہ وہ عورت پسند آتی ہے جس کی چھاتیاں گول مٹول ،بڑی بڑی اور تنی ہوئی ہوتی ہیں ۔جس عورت کے جسم میں یہ خوبصورتی ،کشش،اور خوبی پائی جائے وہ مرد کے دل پر راج کرتی ہے اور ازدواجی زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارتی ہے۔

چھاتیوں کی جسامت کا معاملہ جینیاتی ہے ،یعنی چھاتیوں کی جسامت ،جینیاتی خاکے کے حساب سے زیادہ نہیں بڑھ سکتی ۔تاہم اِس حقیقت کے باوجود آپ اپنی چھاتیوں کی جسامت بڑھانا چاہتی ہیں تو ہمارے علم کے مطابق اِس سلسلے میں کوئی مؤثر ادویات یا کریمز دستیاب نہیں ہیں۔تاہم چند ورزشیں اور مساج ایسے ہیں جن کے ذریعے ،اِس سلسلے میں کچھ فائدہ ہوسکتا ہے ۔درحقیقت چھاتیوں کی بناوٹ میں ،چربی، دودھ پیدا کرنے والے غدود ،دودھ کی نالیاں ہوتی ہیں اور چھاتیوں میں کسی قِسم کے عضلات نہیں ہوتے ۔ تاہم پیٹ کے عضلات کو ہم آہنگ کرنے والی ورزشوں کے ذریعے پیٹ کے عضلات ہموار ہو جاتے ہیں اور چھاتیوں کے نیچے والے عضلات کی ساخت بہتر ہوجاتی ہے ،اور اِس طرح چھاتیاں نمایاں ہوجاتی ہیں اور بڑی نظر آتی ہیں۔اِس قِسم کی ورزشوں میں تیراکی کرنا بہترین ورزش ہے ۔ ذیل میں چند ایسی ورزشیں ہیں جو کسی حد تک مفید ثابت ہوسکتی ہیں

بریسٹ-سائز-بڑھانے-کے-طریقے

Leave a Reply