Home » جنسی لحاظ سے حسساس حصّے

جنسی لحاظ سے حسساس حصّے

ویسے تو جنسی لحاظ سے مرد و عورت کا پورا جسم ہی حسساس ہوتا ہے لیکن جسم کے کچھ مقامات جنسی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف اور نسبتا زیادہ حسساس هوتے ہے- دوران مباشرت بھرپور جنسی لطف و سرور حاصل کرنے کے لیے مرد و عورت کا ایک دوسرے کی جنسی لحاظ سے حسساس جگہوں کے بارے میں جاننا نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے-
جنسی لحاظ سے عورت کے حسساس حصّے
بظر Clitoris
یہ جنسی سے عورت کے جسم کا حساس ترین حصّہ ہے لیکن کچھ عورتوں میں فرج Vagina بظر سے زیادہ حساس ہو سکتی ہے- یہ عورت کی فرج میں جہاں اوپر والے ہونٹ ملتے ہیں اس کے اندر موجود ہوتا ہے یہ مٹر کے دانے کے برابر ہوتا ہے- اسے چھونے سے عورت کا جنسی ہیجان بہت بڑھ جاتا ہے- کچھ عورتیں اسے چھو کر ہی آرگےزم حاصل کرتی ہیں- مباشرت کے دوران مرد بیوی کے بزر کو پیار سے چھو کر اس کے لطف و سرور میں اضافہ کر سکتا ہے فور پلے میں یہ چیز بہت اھم کردار ادا کرتی ہے اس کے چھونے سے عورت کا جنسی ہیجان اس کی انتہا پر ہوتا ہے اس سے مرد اپنی بیوی کا دل بھی جیت سکتا ہے عورت اسی مرد کو پسند کرتی ہے جو اسے جنسی لحاظ سے مطمئن رکھ سکے- جب بزر کو مسلسل پیار بھرے انداز سے چھوتے رہنے کے بعد عورت لزت کی انتہا کو چھو لیتی ہے تو بزر اکڑ جاتا ہے تا ہم جب عورت آرگےزم حاصل کر لیتی ہے تو پھر بزر ڈھیلا پر جاتا ہے تب بزر کو نہیں چھونا چاہیے ورنہ اس سے بیوی کو تکلیف پوھنچے گی-
بزر کیونکہ فرج سےتھوڑا اندر کی طرف فاصلے پر ہوتا ہے اس لیے اس کو اپنے ذکر penis سے مباشرت کے درمیان مشتعل نہیں کیا جا سکتا اس لیے اسے انگلی سے ہی فور پلے ( دخول سے پہلے پیار بھری چھیڑ چھاڑ ) کے دوران چھوا جانا چاہیے- عورت کی ٹانگیں کھول کر اس کی فرج کے باہری ہونٹوں کو ہٹا کر با آسانی بزر کو دیکھا جا سکتا ہے-
جی سپاٹ G spot
بزر کے بعد عورت کا جنسی لحاظ سے سب سے حساس حصّہ جی سپاٹ ہوتا ہے- اسے 1950 میں دریافت کیا گیا تھا- اگر بزر کی سیدہ میں انگلی فرج میں داخل کی جائے تو فرج کی اوپر والی دیوار میں جی سپاٹ مل جائے گا لیکن مختلف عورتوں میں جی سپاٹ کی جگہ مختلف ہوتی ہے اسے آسانی سے تلاش کی جا سکتا ہے اگر اس طریقے سے جی سپاٹ نہ ملے تو انگلی تو اسی طرح فرج میں داخل کر کے ایک انچ دائیں یا باہیں گھمانے سے جی سپاٹ مل جائے گا- اسے مشتعل کرنے سے عورت زبردست آرگےزم حاصل کرتی ہے یہ چھوٹے لوبیے کی شکل کا ہوتا ہے لیکن اسے چھونے سے جب عورت جنسی عروج حاصل کرتی ہے تو اس کا سائز دو گنا ہو جاتا ہے- تا ہم ہر عورت کے جی سپاٹ کے سائز اور مقام میں فرق ہوتا ہے اسے چھو کر مشتعل کرنے سے عورت کو ایک تیز جھٹکا لگتا ہے اور وہ سوج جاتی ہے-
اس سے عورت کو پیشاب کی خواھش ہوتی ہے لیکن اگر عورت مکمل لطف حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کے اس سے پہلے ہی پیشاب کر لے تا کے بھرپور لطف حاصل ہو سکے-
لیکن ایک بار جی سپاٹ کو چھونے کے بعد جاری رکھا جائے تو 2 سے 3 منٹ میں عورت آرگےزم حاصل کر سکتی ہے جسے عورتوں کی Masturbation بھی کہا جا سکتا ہے- 55 فیصد عورتیں اس جی سپاٹ کے آرگےزم سے پانی خارج کرتی ہیں اور 20 فیصد ہمیشہ خارج کرتی ہیں یہ بے رنگ ہوتا ہے تا ہم اخراج کے ساتھ اور اخراج کے بغیر لطف میں معمولی سا ہی فرق ہوتا ہے- 80 فیصد عورتیں اسے جنسی لحاظ سے بہت ہی حساس حصّہ قرار دیتی ہیں- ایک سروے میں 66 فیصد عورتوں نے بتایا کے وہ اپنے اس مقام سے آگاہ ہیں لیکن ہمارے ہاں 99 فیصد لوگ اس جی سپاٹ سے آگاہ نہیں ہیں- ہر عورت جی سپاٹ کے اشتعال سے آرگزم حاصل کرتی ہے مگر یہ مگر پانی کا اخراج عموما دوسرے یا تیسرے آرگزم سے ہی حاصل ہوتا ہے لیکن یہ بات بھی اھم ہے کہ عورت ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ آرگزم حاصل کر سکتی ہے- مباشرت کے درمیان جی سپاٹ تک پوھنچنا کوئی مشکل نہیں ہے لیکن اس کے لیے پیچھے سے دخول کرنا پرے گا یعنی Dogy style میں مباشرت کرنے سے مرد آسانی سے گی سپاٹ تک پوھنچ سکتا ہے- لیکن اگر ایسا نہ ہو تو عورت خود penis کو پکڑ کر اپنے جی سپاٹ کو مشتعل کروا سکتی ہے – مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ عورت کو خود اپنے جی سپاٹ کی جگہ کا بارے میں پتا ہو-
اسے تلاش کرنے کے لیے آپ ایک پر سکوں جگہ کا انتخاب کریں جیسا کے اپنے کمرے کا یا باتھ روم کا جہا اور کوئی نہ ہو اپنے نیچے والے کپڑے اتار لیں اور پیٹھ کے بل بیٹھ جاین اپنے گٹھنے کھڑے کر لیں اور ٹانگیں کھول لیں اب بازار کی سیدہ میں اپنی انگلی فرج میں داخل کریں فرج کی اوپر والی دیوار کو ٹچ کریں اور ایک انچ تک دائیں سے بائیں انگلی کو گھما کر دیکھیں آپ کو جی سپاٹ مل جاے گا اسے پیار سے رگڑیں جی سپاٹ اپنے سائز سے دو گنا برا ہو جائے گا تب آپ کو پیشاب کی خواھش ہو گی لیکن اگر آپ رگڑنا جاری رکھیں گی تو دو سے تین منٹ بعد پانی کے اخراج کے ساتھ آپ آرگزم حاصل کر لیں گی- اگر آپ رگڑنا جاری رکھیں تو دو سے تین دفع بھی آرگزم حاصل کر سکتی ہیں-
فرج Vagina
تیسرے نمبر پر عورت کا حساس حصّہ اس کی فرج یعنی Vagina ہے ساری فرج جنسی لحاظ سے حساس نہیں ہوتی بلکہ داخلی راستے کے پہلے دو انچ ہی حساس ہوتے ہیں- اور فرج سے زیادہ فرج کے لبوں کے دائیں بائیں والی حصّے زیادہ حساس هوتے ہیں-
پستان Breasts
عورت کے پستان بھی جنسی لحاظ سے حساس هوتے ہیں کچھ عورتیں صرف پستانوں کے اشتعال سے بھی آرگزم حاصل کر لیتی ہیں لیکن ایسی عورتوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے- عورت کی چھاتیوں کے ابھار یعنی بریسٹ کا سایز برا چھوٹا بھی ہو سکتا ہے لیکن اس بات کا ان کے جنسی لطف و لذّت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا عام طور پر چھوٹے بریسٹ برے بریسٹ کی نسبت زیادہ حساس ہوتے ہیں اور ویسے بھی یہ جنس مخالف کے لیے بہت کشش رکھتے ہیں- بریسٹ میں نیپلز جنسی لہٰذ سے بہت ہی حساس ہوتے ہیں اور یہ فورا ہی عورت میں جنسی ہیجان پیدا کر دیتا ہے- جنسی ہیجان میں نیپلز تن جاتے ہیں لیکن دودھ پلانے والی عورتوں میں ایسا نہیں ہوتا- اور ایک بہت ہی دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں نیپلز میں سے ایک زیادہ حساس ہوتا ہے عورت کو اس چیز کا علم ہونا چاہیے تا کے وہ جنسی لطف کے حصول کے لیے اپنے خاوند کو بتا سکے-
سرین Buttocks
جنسی لحاظ سے یہ حصّہ بھی حساس ہوتا ہے اس کا چھیڑنا اسے مشتعل کرنا اور دبانا عورت کو بہت پسند ہوتا ہے ویسے بھی یہ دیکھنے میں بہت خوبصورت ہوتے ہیں کچھ مرد صرف اسے دیکھنے یا چھونے سے ہی جنسی طور پر مشتعل ہو جاتے ہیں-
جنسی لحاظ سے یہ حصّے بھی حساس ہیں
ناف اور اس کے ارد گرد کا حصّہ ، ناف کے نیچے جہاں بال ہوتے ہیں ، رانیں اور ان کا اندرونی حصّہ ، گٹھنوں کا پچھلا حصّہ، ہونٹ ، گردن ، گال منہ کا اندرونی حصّہ کان کی لویں اور ان کا پچھلا حصّہ ہاتھوں کی انگلیاں اور جلد وغیرہ

Leave a Reply