Home » بواسیرکا علاج|Piles treatment

بواسیرکا علاج|Piles treatment

علائم بیماری بواسیر

جو رطو بت قلب اور عضلا ت کی تیزی سے پیدا ہو تی ہے ، اس کی ز یا دتی اور اس میں خمیر سے جو ما دہ بن کر زہر میں تبدیل ہوتا ہے __یہی بواسیری ما دہ ہے ۔ عضلا تی رطو بت بذاتِ خود تر ش ہو تی ہے ،پھر اس ترشی میں خمیر پیدا ہو کر مزید ترشی بن جا تی ہے ۔اس میں اس قدر شدت پیدا ہو جا تی ہے کہ زہر بن جا تی ہے۔ یہی ز ہر پھر غذا کے سا تھ خون میں جذ ب ہونا شروع ہو جا تا ہے پھراس کا زہر خون کے ساتھ تما م جسم پر اثر انداز ہو تا ہے ۔
بوا سیر ایک قسم کا ورم ہے، جو مقعد کی رگوں کے منہ پر سودا وی غلیظ خون سے پیدا ہو جا تا ہے ۔اس کی نا قابلِ تر دید دلیل یہ ہے کہ مسّوں کی جتنی بھی اقسام ہیں ، ان سب کی رنگت سیا ہی ما ئل یا کم ازکم اس میں سیا ہی کی ملا وٹ ضرور ہو تی ہے ۔طبِ قدیم میں اس کی بہت سی اقسام بیا ن کی گئی ہیں ۔ مسّوں کی شکلیں مختلف قسم کی ہو تی ہیں ۔ان کی بنا و ٹ پر بحث کر کے اس مضمون کو طو یل کیا جا سکتا ہے مگر اس طر ح کی طوا لت سے کو ئی خا ص فا ئدہ نہیں ہو سکتا ۔
غشائے مخاطی کا خول اس مسّے کے اوپر پھیلا ہو ا ہو تا ہے ۔ اندر پھولی ہو ئی وریدیں اور بہت سی رگوں کا جا ل ہو تا ہے ۔جس میں الحا قی نسیج بڑی مقدا ر میں پائی جا تی ہے ۔
جسم میں تنا ؤ کھچاؤ۔ دل کی رفتا ر میں تیزی ۔ عضلا ت میں سکیڑ ۔جسم میں خشکی۔ دما غ و اعصا ب میں ضعف۔ جگر اور دیگر غدد کے افعال میں سستی اور سکو ن اور وہاں پر رطو بت اور بلغم کی ز یا دتی ۔اسی تر ش بلغم اور ر طو بت کے د با ؤ سے جسم کے تمام مخرجو ں پر مسّے پیدا ہو جا تے ہیں ۔جن میں مقعد ، رحم اور نا ک و لب وغیرہ شامل ہیں اور بعض دفعہ جسم کے دیگر حصّوں پر بھی مسّے پیدا ہو جا تے ہیں ۔ ذائقہ تر ش لیکن جب صفراء کا اخراج رُک جا تا ہے تو ذائقہ بھی تلخ ہو جا تا ہے ۔ منہ نا ک اور سر میں خشکی ۔بند نزلہ ۔ سینے میں جلن اور خشک کھانس ۔ معدہ میں جلن ۔ درد اور ریا ح ، گر دوں اور جگر پر دبا ؤ ۔ ان علا ما ت میں شدت سے جوڑوں اور عضلا ت میں درد شروع ہو جا تا ہے اور ہر قسم کی تکلیف میں اضا فہ ہو جا تا ہے ۔
مریض کے مقعد کے اندر دردو سوزش اور خا رش و بو جھ کے احساس کی شدت ہوتی ہے اور طبیعت بے حد بے چین رہتی ہے۔بیٹھتے و قت تکلیف محسوس ہو تی ہے۔اکثر انسان لیٹا رہتا ہے ۔اس کی و جہ یہ ہو تی ہے کہ عروق مقعد کے د ہا نو ں پر جو مسّے (لحمی فزونیا ت) ہو تے ہیں __بیٹھنے سے اُن پر سخت د با ؤ پڑ کر مرض میں شدت پیدا ہو جا تی ہے ۔اگر ان مسّوں سے خون اور زرد آب خا رج ہو تا ہو تو اس کو خونی بوا سیر کہتے ہیں ۔
اگر خونی بوا سیر ہو تو پا خا نے کے سا تھ خون ملا ہو ا نہیں آتا ۔یہ اکثر پہلے آ تا ہے یا بعد میں قطروں کی شکل میں گر تا ہے ۔خون کے اخرا ج کے بعد سوزش اور بو جھ کم ہو جا تا ہے اور ر یا ح کے اخراج کے بعد درد میں کمی ہو تی ہے ۔ جو ں جو ں ر یا ح میں بندش ہو تی جا تی ہے ، مسّے بڑھتے جا تے ہیں اور درد میں شدّت ہوتی جا تی ہے ۔اکثر قبض رہتی ہے مگر کبھی مروڑ کے ساتھ پا خا نہ آ تا ہے ۔جلن میں شدت ہوتی ہے ۔ البتہ پیشاب با ر با ر آ تا ہے ۔جن کے ساتھ کچھ تسکین محسوس ہو تی ہے ۔

نبض: عضلا تی اعصا بی یا عضلا تی غدی ہو گی ۔
آسان ترین با ت یا د رکھیں : نبض کم ازکم مشرف اور صلب ضرور ہو گی ۔
قارورہ : سرخ سیا ہی ما ئل یا سر خ زردی ما ئل ہو گا ۔
بوا سیری ما دے کا زہر عضلا تی ہو تا ہے ۔بوا سیر ی ما دہ تر شی سے پیدا ہو کر تیزابیت کی صو رت اختیا ر کر کے زہر بن جا تا ہے جیسا کہ دہی اگر چند ہفتے پڑا رہے تو وہ نہ صرف تیز ا ب بن جا ئے گا بلکہ اس کے اندر ز ہریلے اثرا ت پیدا ہو جا ئیں گے ، جو مہلک ثا بت ہو ں گے ۔
بوا سیری ما دہ کا اثر و اخراج چونکہ گر دوں و جگر اور دیگر غدود کی طر ف ہو تا ہے، اس لئے وہ متا ثر ہو تے ہیں اور رفتہ رفتہ ان میں سوزش اور سوزشی ما دہ کے اجتما ع سے پتھری پیدا ہو جا تی ہے اس لئے اس کا اثر غدود پر پڑتا ہے ۔تحریک کی صورت یہ ہوتی ہے کہ عضلا ت میں تحریک ، غدد میںتسکین اور اعصا ب میں تحلیل کی صورتیں پیدا ہو جا تی ہیں ۔
طب کے نظریہ اخلا ط سے یو ں سمجھیں کہ جمہو ر اطبا ء متفقہ طو ر پر تسلیم کر تے ہیں کہ مر ض بوا سیر سودا وی ما دہ سے پیدا ہو تا ہے ۔بس یہی سودا وی ما دہ اپنی کثرت اور خمیر و تعفن اور فسا د سے ز ہر کی صو رت اختیا ر کر لیتا ہے ۔
نظریہ مفرد اعضا ء کے تحت بوا سیر کا علاج یہ ہے کہ بوا سیر عضلا تی تحریک اور سوزش ہے اور اس کا علا ج غدی تحریک ہے ، جس کا مرکز جگر ہے ۔
اگر ریا حی بواسیر ہے تو عضلا تی اعصا بی ہے اور خونی ہے تو عضلاتی غدی ہے ۔
علاج کی صو رت میں غدی عضلا تی یا غدی اعصا بی تحریک پیدا کردیں۔
اس مقصد کے لیے اغذیہ اور ادویہ ان کے مطا بق ہو نی چاہئیں ۔ذہن نشین کرلیں کہ خون آ ئے یا نہ آ ئے، اگر مسّے ہو ں تو بوا سیر یقینا خونی ہے اور خون کی کثرت اس و قت ہوتی ہے ،جب طبیعت مدبر ہ بدن اصلا ح کے طو ر پر غدد کے فعل کو تیز کر دیتی ہے ۔
شناخت بواسیر و درمان آن
رفع قبض اور اخرا ج ریا ح میں صفراء اور حرا رت کا بہت دخل ہے ۔ جگر کا اہم فعل ہی یہی ہے کہ وہ خون سے صفراء اور حرارت آنتو ں میں گرا کر ر فع قبض اور اخراج ر یا ح کر تا ہے ، جب جگر کے فعل میں کمی وا قع ہو جا تی ہے تو صفراء کی پیدائش اوراخرا ج رُک جا تی ہے ۔جس سے قبض اور بندشِ ریا ح ہو جا تی ہے ۔ اس کا علاج قبض کشاء اور دافع ریا ح ادویہ اور اغذیہ کا استعما ل نہیں ہے بلکہ جگر کے فعل کو تیز کر نا ہے ۔جس سے ایک طر ف قبض کشائی اور اخرا جِ ر یا ح ہو تی ہے اور دوسری طرف بوا سیر کی دیگر علا ما ت دور ہوجاتی ہیں ۔
بکری کا گوشت ۔ مر غی و بطخ اور مر غا بی کا گوشت اور انڈے ۔تیتر و بٹیر اور تلیر کا گوشت ۔کدو۔ ٹینڈے ۔ گھیاتوری ۔ مولی۔ گا جر ۔ شلجم۔ دال مونگ __ تنہا یا چھوٹے گو شت میں ملا کر استعمال کر سکتے ہیں ۔ادرک ، لہسن ،مر چ سیا ہ اور زیرہ سیاہ ڈال کر پکا ئیں ۔
چلغو زہ ۔ با دام شیریں ۔ کھجو ر تر اور شیریں ۔ خو با نی ۔شہتو ت ۔
گا ئے اور بکری کا دودھ ۔مکھن اور گیہو ں کی چپا تی اور دلیہ وغیر ہ شدید بھوک پر دے سکتے ہیں ۔
پر ہیز
گا ئے ،بھینس کا گوشت ۔ ابلے ہو ئے انڈے ۔آلو۔ گوبھی ۔ متر۔ چنے ۔ کریلے۔ سُرخ مرچ۔ سبز مرچ۔ تیز مر چ مصا لحہ ۔ اچا ر اور تر شی وغیرہ اور خشک اشیا ء ۔
بوا سیر عضلا تی تحریک (سوداوی ما دہ ) ہے ۔اس کے لئے غدی ادویہ یقینی و بے خطا اور اکسیر ادویہ ہیں۔اس لئے غدی ادویہ خصو صاً غدی عضلا تی اور غدی اعصابی ادویہ دیںکیو نکہ ان سے نہ صر ف صفراء اور حرا رت پیدا ہو تی ہے بلکہ وہ پتہ میں جمع ہو کر خون میں سرا یت بھی کر تی رہتی ہے ۔اس مقصد کے لیے وہ تما م مرکبا ت و مجر با ت جو تحقیقات فارما کو پیا اور تحقیقات المجر با ت میں درج ہیں ۔ضرورت کے مطا بق محرک و شدید اور ملین و مسہل و غیرہ دیں۔ اسی طرح تریا ق و اکسیر ات اور مقویا ت بھی دے سکتے ہیں ۔ بواسیر-چیست-و-درمان-بواسیر

Leave a Reply