Home » رحم کی رسولیاں

رحم کی رسولیاں

رحم کی رسولیاں

شرمگاہ کے لبوں کے اندر یا کناروں پر جو رسولیاں پیدا ہو جاتی ہیں، انہیں اصطلاحاً سلعتہ الفُرج کہتے ہیں۔ ابتدا میں یہ رسولیاں مٹر کے دانوں کے برابر ہوتی ہیں۔ لیکن رفتہ رفتہ ان کی جسامت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور مریضات کو چلنے پھرنے میں بے حد تکلیف ہوتی ہے۔
یہ رسولیاں چونکہ مختلف مواد کے زیر اثر پیدا ہوتی ہیں۔ اس لئے ان کی اقسام بھی مختلف اور متعدد ہیں۔ بعض رسولیوں میں درد کا احساس بالکل نہیں ہوتا اور بعض بے حد تکلیف دہ ہوتی ہیں، بعض خارش سے بالکل خالی اور بعض میں بڑی پریشان کن خارش ہوتی ہے اور جب مریضہ انہیں کھجاتی ہے تو ان میں سے ایک رقیق اور بدبو دار رطوبت بہنے لگتی ہے۔ ان کے علاوہ سرطانی قسم کی رسولیاں بھی ہوتی ہیں۔ معائنہ کرنے پر بعض انتہائی سخت اور بعض انتہائی نرم پائی جاتی ہیں۔ بعض کی رنگت خاکستری اور بعض کی سرخی مائل ہوتی ہے۔ اور ان میں سے تیزابی رطوبت بہتی رہتی ہے۔ لیکن جب انہیں شدت سے کھجایا جائے تو زخم پیدا ہو جانے کے باعث ان میں سے خون جاری ہو جاتا ہے۔ خاکستری رنگ کی رسولیاں مواد اور خارش سے خالی ہوتی ہیں۔ بعض اوقات یہ رسولیاں بڑی آہستگی سے اور بتدریجاً بڑھتی ہیں اور بعض اوقات جلد ہی انڈے جتنی جسامت اختیار کر لیتی ہیں۔ فُرج کی رسولیاں
یہ رسولیاں عام طور پر آتشکی مادے کا نتیجہ ہیں٫ بعض کیسوں میں خون کا گاڑھا پن اور غیر معمولی حدت بھی ان رسولیوں کا سبب بنتی ہے۔
ابتدء میں یہ دکھائی نہیں دیتیں۔ اس لئے شفران کو چٹکی میں لے کر دبانے سے محسوس ہوتی ہیں لیکن بعد ازاں جب بڑھ جاتی ہیں تو خود بخود ظاہر ہو جاتی ہیں۔ متاثرہ مقام پر درد ہوتا ہے۔ لیکن بعض اصابتوں میں درد بالکل نہیں پایا جاتا۔ چلنے پھرنے میں تکلیف ہوتی ہے۔
ان رسولیوں کو جدید طب میں ’’فائبر ائیڈیوٹرس‘‘کہا جاتا ہے۔یہ رحم کی عضلاتی رسولیاں ہوتی ہیں جو کہ عموماً چالیس سال کی عمر میں ہوتی ہیں لیکن عملی تجربات و مشاہدات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کنوار پن میں یہ رسولیاں زیادہ ہوتی ہیں۔رحم میں ان رسولیوں کی تعداد ایک سے لے کر سینکڑوں تک ہو سکتی ہے۔اسی طرح ان رسولیوں کے سائز میں بھی فرق ہوتا ہے اور یہ مٹر کے دانے لیکر 10کلو وزنی تک ہو سکتی ہیں اور بعض رسولیاں اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ عورت پر حاملہ ہو نے کا گمان ہونے لگتا ہے۔رحم جو کہ بچے کی پرورش گاہ ہے اس میں خرابی کی صورت میں اولاد سے محروم ہونا لازمی امر ہے۔رحم میں رسولیوں کے وقوع پذیر ہونے سے عورت کے بدن میں کئی طرح کی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں مثلاً ماہواری کا خون زیادہ مقدار میں آنے لگتا ہے،ماہواری درد اور تکلیف کے ساتھ آتی ہے۔ماہواری کے درمیانی وقفے میں دوبارہ سے خون آجاتا ہے۔ماہواری کی مقدار یعنی خارج ہونے والے خون کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے،کمر اور پیٹ کے نچلے حصے میں درد رہتا ہے جوکہ مباشرت کے وقت زیادہ ہو جاتا ہے،پیٹ کے نچلے حصے میں بوجھ محسوس ہوتا ہے،لیکوریا کی تکلیف ہو جاتی ہے،بدہضمی،اپھارہ پن،بھوک کی کمی اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے،پیٹ کا سائز بڑھ جاتا ہے۔چھوٹی رسولیوں کی صورت میں اگر حمل قرار پائے جائے تو یہ رسولیاں بہت تیزی سے ساتھ بڑھنے لگتی ہیں جن کی وجہ سے حمل گر جاتا ہے۔رحم میں جب تک رسولی ہو حمل کی توقع کرنا بیکار ہے لہٰذا اس کی طرف فوری توجہ دی جائے تو بہتر ہے۔بصورت عورت اولاد کی نعمت سے محروم رہتی ہے۔

رحم-کی-خرابیاں

Leave a Reply